صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
272. فصل في زيارة القبور - ذكر السبب الذي من أجله فعل صلى الله عليه وسلم ما وصفنا
قبروں کی زیارت کے بیان میں فصل - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ عمل کیا
حدیث نمبر: 3175
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ لَمَّا مَاتَ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ، وَصَلِّ عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفِرْ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ، وَقَالَ:" إِذَا فَرَغْتَ فَآذِنِّي حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ" فَلَمَّا فَرَغَ آذَنَهُ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَذَبَهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ قَالَ اللَّهُ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سورة التوبة آية 80" قَالَ: فَنَزَلَتْ: وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 قَالَ: فَتَرَكَ الصَّلاةَ عَلَيْهِ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا، تو اس کا بیٹا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قمیض مجھے عطا کیجئے، تاکہ میں اسے (یعنی اپنے باپ کو) اس میں کفن دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ بھی ادا کیجیے اور اس کے لیے دعائے مغفرت بھی کیجیئے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیض اسے عطا کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم (غسل اور کفن دے کر) فارغ ہو جاؤ، تو مجھے اطلاع دے دینا، تاکہ میں اس کی نماز جنازہ پڑھاؤں جب وہ فارغ ہوا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھنے کے لیے اٹھنے لگے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھینچا اور عرض کی: کیااللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے منع نہیں کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منافقین کی نماز جنازہ ادا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا ہےاللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ”تم ان کے لیے دعائے مغفرت کرو یا تم ان کے لیے دعائے مغفرت نہ کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ”اب تم کبھی بھی ان (منافقین میں سے) کسی کی بھی نماز جنازہ ادا نہ کرنا اور اس کی قبر پر کھڑے نہ ہونا۔“ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3175]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3165»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الأحكام» (ص 121): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان عبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن علي بن المديني ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله | |
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة الفضل بن الحباب الجمحي ← علي بن المديني | ثقة ثبت |
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي