صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
273. فصل في زيارة القبور - ذكر البيان بأن ألفاظ خبر ابن عمر الذي ذكرناه أديت على الإجمال لا على الاستقصاء في التفسير
قبروں کی زیارت کے بیان میں فصل - اس بات کا بیان کہ ابن عمر کی خبر کے الفاظ جو ہم نے ذکر کیے، وہ اجمالاً ادا کیے گئے، نہ کہ تفصیل کے ساتھ
حدیث نمبر: 3176
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنِ إِسْحَاقَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، يَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، أَتَى ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ قَدْ وَضَعْنَاهُ، فَصَلِّ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ، قُمْتُ فِي صَدْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتُصَلِّي عَلَى عَدُوِّ اللَّهِ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا كَذَا وَكَذَا، وَالْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا كَذَا وَكَذَا، أُعَدِّدُ أَيَّامَهُ الْخَبِيثَةَ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" عَنِّي يَا عُمَرُ"، حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ قَالَ:" عَنِّي يَا عُمَرُ، فَإِنِّي قَدْ خُيِّرْتُ، فَاخْتَرْتُ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سورة التوبة آية 80 وَلَوْ أَعْلَمُ أَنِّي زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ، لَزِدْتُ" قَالَ عُمَرُ: فَعَجَبًا لِجُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ، انْصَرَفْتُ عَنْهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ مَشَى مَعَهُ، فَقَامَ عَلَى حُفْرَتِهِ حَتَّى دُفِنَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثَ إِلا يَسِيرًا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا، وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُنَافِقٍ بَعْدَ ذَلِكَ، وَلا قَامَ عَلَى قَبْرِهِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا، تو اس کا بیٹا عبداللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ عبداللہ بن ابی ہے، جسے ہم نے (میت کی چار پائی پر) رکھ دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے اٹھے، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے اس دشمن کی نماز جنازہ ادا کریں گے جس نے فلاں دن یہ، یہ بات کہی تھی اور فلاں دن یہ، یہ بات کہی تھی میں نے اس کے متعدد خبیث دن گنوا دیئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو اے عمر! جب میں نے زیادہ تکرار کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے چھوڑ دو اے عمر، کیونکہ مجھے اختیار دیا گیا ہے میں نے (اپنی پسندیدہ صورت کو) اختیار کر لیا ہےاللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم ان کے لیے دعائے مغفرت کرو یا ان کے لیے دعائے مغفرت نہ کرو۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اگر مجھے یہ پتہ ہو کہ میں ستر مرتبہ سے زیادہ دعائے مغفرت کروں، تو اس کی مغفرت ہو جائے گی، تو میں اس سے زیادہ مرتبہ کر لوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی جرات پر حیران ہوتا ہوں بہر حال اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات کہی، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ہٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کے ہمراہ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے کنارے کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اللہ کی قسم! اس کے تھوڑے ہی عرصے بعداللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی۔ ”ان میں سے جس کسی کا بھی انتقال ہو، تو تم نے اس کی نماز جنازہ کبھی ادا نہیں کرنی اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہونا ہے۔“ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی منافق کی نماز جنازہ ادا نہیں کی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی منافق کی قبر پر کھڑے ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3176]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3166»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي