صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
49. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر وصف عقوبة الكنازين في نار جهنم نعوذ بالله منها
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ خزانہ جمع کرنے والوں کی جہنم کی آگ میں سزا کیا ہو گی، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 3259
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَسَدِيُّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ وَفِيهَا مَلأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، أَخْشَنُ الثِّيَابِ، أَخْشَنُ الْجَسَدِ، أَخْشَنُ الُوَجْهِ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِمْ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدِيِ أَحَدِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفِهِ، وَيُوضَعَ عَلَى نُغْضِ كَتِفِهِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةَ ثَدِيهِ، فَوَضَعُوا رُؤُوسَهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ، رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: وَأَدْبَرَ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ هَؤُلاءِ إِلا كَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ، قَالَ: إِنَّ هَؤُلاءِ لا يَعْقِلُونَ، إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ " فَأَجَبْتُهُ، قَالَ:" أَتَرَى أُحُدًا"، قَالَ: فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنَ الشَّمْسِ، وَأَنَا أَظُنُّهُ يَبْعَثُنِي لِحَاجَةٍ لَهُ، فقلتُ: أَرَاهُ، فَقَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ غَيْرَ ثَلاثَةِ دَنَانِيرَ" ، ثُمَّ هَؤُلاءِ يَجْمَعُونَ الدُّنِيَا لا يَعْقِلُونَ شَيْئًا، قَالَ: قُلْتُ: مَا لَكَ وَلإِخُوَانِكَ قُرَيْشٍ؟ قَالَ: لا وَرَبِّكَ لا أَسْأَلُهُمْ دُنِيَا وَلا أَسْتَفْتِيهِمْ فِي دِينِي حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
احنف بن قیس بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اس میں قریش کے کچھ افراد بھی تھے اسی دوران ایک صاحب وہاں آئے جنہوں نے کھردرے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ان کا جسم بھی کھردرا تھا چہرہ بھی کھردرا تھا وہ ان لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور بولے: خزانے جمع کرنے والوں کو انگاروں کی اطلاع دے دو جنہیں ان کے لیے جہنم کی آگ میں بھڑکایا جا رہا ہے اور پھر اسے ان میں سے کسی ایک شخص کے سینے پر رکھا جائے گا، یہاں تک کہ وہ انگارہ اس کے کندھے کی طرف سے نکل جائے گا اور اسے اس شخص کے کندھے پر رکھا جائے گا، تو وہ اس کے سینے سے نکل جائے گا، تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے انہیں کوئی جواب دیا ہو پھر وہ صاحب چلے گئے میں ان صاحب کے پیچھے گیا وہ ایک ستون کے پاس جا کے بیٹھ گئے میں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ ان سب لوگوں نے آپ کی اس بات کو ناپسند کیا ہے، جو آپ نے ان سے کہی ہے، تو اس شخص نے کہا: یہ لوگ عقل نہیں رکھتے ہیں میرے خلیل سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور فرمایا: اے ابوذر میں نے کہا: میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے احد کو دیکھا ہے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ دھوپ کتنی تیز ہے میرا یہ خیال تھا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام سے مجھے بھیجنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس اس (احد پہاڑ) جتنا سونا ہو اور میں اس سب کو خرچ کر دوں، لیکن تین دینار خرچ نہ کروں (یعنی میں اسے بھی خرچ کر دوں گا)۔ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا) یہ لوگ ہیں کہ یہ دنیا جمع کیے جا رہے ہیں انہیں کسی چیز کی عقل میں نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا: آپ کا اور آپ کے قریشی بھائیوں کا کیا واسطہ۔ انہوں نے فرمایا: جی نہیں تمہارے پروردگار کی قسم! میں ان لوگوں سے دنیا نہیں مانگوں گا، نہ ہی اپنے دین کے بارے میں ان سے مسئلہ دریافت کروں گا، یہاں تک کہ میںاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3248»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1028).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
الأحنف بن قيس التميمي ← أبو ذر الغفاري