صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب
باب -
حدیث نمبر: 33
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ يَرَاهَا فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لا يَرَى رُؤْيَا إِلا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ لَهُ الْخَلاءُ، فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءَ، فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعِدَّةِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ، فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، قَالَ:" فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ لِي: اقْرَأْ، فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سورة العلق آية 1 حَتَّى بَلَغَ مَا لَمْ يَعْلَمْ سورة العلق آية 5، قَالَ: فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ:" زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي"، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا خَدِيجَةُ مَا لِي؟" وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ وَقَالَ:" قَدْ خَشِيتُهُ عَلَيَّ"، فَقَالَتْ: كَلا أَبْشِرْ، فَوَاللَّهِ لا يُخْزِيكَ الِلَّهِ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ، وَكَانَ أَخَا أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ، فَيَكْتُبُ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الإِنْجِيلِ مَا شَاءَ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: أَيْ عَمِّ، اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، فَقَالَ وَرَقَةُ: ابْنَ أَخِي، مَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى، فَقَالَ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ فِيهَا جَذَعًا، أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمُخْرِجِيَّ هُمْ؟!" قَالَ: نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلا عُودِيَ وَأُوذِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا، ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ، وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا لِكَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ كَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهَا تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، فَيَسْكُنُ لِذَلِكَ جَأْشُهُ، وَتَقَرُّ نَفْسُهُ، فَيَرْجِعُ، فَطَالَ عَلَيْهِ فَتْرَةُ الْوَحْيِ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ، فَأَوْفَى بِذِرْوَةِ الْجَبَلِ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وحی کے آغاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب دکھائی دینے لگے، جو آپ نیند کی حالت میں دیکھتے تھے۔ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے، وہ صبح کے نمودار ہونے کی مانند پورا ہو جاتا تھا، پھر آپ کی طبیعت خلوت کی طرف مائل کر دی گئی۔ آپ غار حرا تشریف لے جاتے تھے اور وہاں تحنث“ کرتے تھے۔
(راوی کہتے ہیں) یعنی آپ وہاں متعدد راتوں تک عبادت کرتے رہتے تھے۔
(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا زادراہ ساتھ لے جایا کرتے تھے، پھر واپس سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے تھے۔ وہ اسی کی مانند مزید زادراہ تیار کر دیتی تھیں۔ یہاں تک کہ اچانک ایک دن حق آپ کے پاس آ گیا۔ آپ اس وقت غار حرا میں موجود تھے۔ وہاں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور بولا: آپ پڑھئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے جواب دیا میں نہیں پڑھوں گا۔ نبی اکرم فرماتے ہیں: اس نے مجھے پکڑ لیا۔ اس نے مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔
پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر اس نے مجھ سے کہا: آپ پڑھئے۔ میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دوسری مرتبہ مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا: آپ پڑھیے! میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے تیسری مرتبہ بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا:
”آپ اپنے پروردگار کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے پڑھئے، جس نے پیدا کیا ہے۔“
یہ آیات یہاں تک ہیں:
”جو وہ نہیں جانتا۔“
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (یا راوی کہتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لائے، تو آپ کے جسم پر کپکپی طاری تھی۔ آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: مجھے اوڑھنے کے لئے کچھ دو! انہوں نے آپ کو اوڑھنے کے لئے کوئی چیز دے دی۔ یہاں تک کہ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے خدیجہ! میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ پھر آپ نے انہیں پوری بات بتائی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہے، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہرگز نہیں۔ آپ کے لئے خوشخبری ہے، اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ بے شک آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہیں۔“
پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں، جو ان کے چچا تھے، یہ صاحب زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی میں تحریر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے انجیل کا کچھ حصہ عربی میں نوٹ کیا ہوا تھا۔
یہ ایک بڑی عمر کے صاحب تھے، جو نابینا ہو چکے تھے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے میرے چچا! آپ اپنے بھتیجے کی
بات سنئے ورقہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم نے کیا دیکھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات دیکھی تھی اس کے بارے میں انہیں بتایا تو ورقہ نے کہا: یہ وہ ناموس (فرشتہ) ہے، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔
اے کاش کہ میں اس وقت موجود ہوتا، یا اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو (مکہ سے) نکال دیتی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا: جی ہاں۔
آپ جو چیز لے کر آئے ہیں، اس طرح کی چیز جو بھی (نبی) لے کر آیا، تو اس سے دشمنی کی گئی اور اسے اذیت پہنچائی گئی۔
اگر مجھے وہ دن دیکھنے کو ملا، تو میں (اس موقعہ پر) آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے کچھ عرصے کے بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا۔
پھر وحی کے نزول کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہو گئے۔ آپ کی یہ کیفیت اتنی شدید ہوئی کہ آپ کئی مرتبہ پہاڑ سے چھلانگ لگانے کے ارادے سے تشریف لے گئے۔
جب بھی آپ پہاڑ کی چوٹی سے خود کو نیچے گرانے کا ارادہ کرتے تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آ جاتے اور آپ سے یہ کہتے: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس وجہ سے آپ کی بے چینی کو سکون آ جاتا اور آپ کی جان کو قرار آ جاتا۔
اور آپ واپس تشریف لے آتے، جب وحی کے انقطاع کا سلسلہ طویل ہو گیا، تو ایک مرتبہ آپ اس کی مانند تشریف لے گئے۔ جب آپ پہاڑ کی چوٹ پر پہنچے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آئے اور انہوں نے آپ کے سامنے اسی کی مانند بات کہی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 33]
(راوی کہتے ہیں) یعنی آپ وہاں متعدد راتوں تک عبادت کرتے رہتے تھے۔
(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا زادراہ ساتھ لے جایا کرتے تھے، پھر واپس سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے تھے۔ وہ اسی کی مانند مزید زادراہ تیار کر دیتی تھیں۔ یہاں تک کہ اچانک ایک دن حق آپ کے پاس آ گیا۔ آپ اس وقت غار حرا میں موجود تھے۔ وہاں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور بولا: آپ پڑھئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے جواب دیا میں نہیں پڑھوں گا۔ نبی اکرم فرماتے ہیں: اس نے مجھے پکڑ لیا۔ اس نے مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔
پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر اس نے مجھ سے کہا: آپ پڑھئے۔ میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دوسری مرتبہ مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا: آپ پڑھیے! میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے تیسری مرتبہ بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا:
”آپ اپنے پروردگار کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے پڑھئے، جس نے پیدا کیا ہے۔“
یہ آیات یہاں تک ہیں:
”جو وہ نہیں جانتا۔“
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (یا راوی کہتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لائے، تو آپ کے جسم پر کپکپی طاری تھی۔ آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: مجھے اوڑھنے کے لئے کچھ دو! انہوں نے آپ کو اوڑھنے کے لئے کوئی چیز دے دی۔ یہاں تک کہ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے خدیجہ! میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ پھر آپ نے انہیں پوری بات بتائی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہے، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہرگز نہیں۔ آپ کے لئے خوشخبری ہے، اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ بے شک آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہیں۔“
پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں، جو ان کے چچا تھے، یہ صاحب زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی میں تحریر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے انجیل کا کچھ حصہ عربی میں نوٹ کیا ہوا تھا۔
یہ ایک بڑی عمر کے صاحب تھے، جو نابینا ہو چکے تھے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے میرے چچا! آپ اپنے بھتیجے کی
بات سنئے ورقہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم نے کیا دیکھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات دیکھی تھی اس کے بارے میں انہیں بتایا تو ورقہ نے کہا: یہ وہ ناموس (فرشتہ) ہے، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔
اے کاش کہ میں اس وقت موجود ہوتا، یا اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو (مکہ سے) نکال دیتی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا: جی ہاں۔
آپ جو چیز لے کر آئے ہیں، اس طرح کی چیز جو بھی (نبی) لے کر آیا، تو اس سے دشمنی کی گئی اور اسے اذیت پہنچائی گئی۔
اگر مجھے وہ دن دیکھنے کو ملا، تو میں (اس موقعہ پر) آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے کچھ عرصے کے بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا۔
پھر وحی کے نزول کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہو گئے۔ آپ کی یہ کیفیت اتنی شدید ہوئی کہ آپ کئی مرتبہ پہاڑ سے چھلانگ لگانے کے ارادے سے تشریف لے گئے۔
جب بھی آپ پہاڑ کی چوٹی سے خود کو نیچے گرانے کا ارادہ کرتے تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آ جاتے اور آپ سے یہ کہتے: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس وجہ سے آپ کی بے چینی کو سکون آ جاتا اور آپ کی جان کو قرار آ جاتا۔
اور آپ واپس تشریف لے آتے، جب وحی کے انقطاع کا سلسلہ طویل ہو گیا، تو ایک مرتبہ آپ اس کی مانند تشریف لے گئے۔ جب آپ پہاڑ کی چوٹ پر پہنچے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آئے اور انہوں نے آپ کے سامنے اسی کی مانند بات کہی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 33]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح دون جملة التردي - «مختصر البخاري» (رقم 3)، ولم يذكرها (م) *، «فقه السيرة». * [(م)] قال الشيخ: خلافاً لِمَا توهَّمه المعلِّقُ على الحديث في طبعة «مؤسسة الرسالة» (1/ 219) فقد عزاهُ لجمعٍ ليست هذه الزيادة الواهيه عند بعضهم - أحدهم مسلم -! ولم يتنبَّه لها الشيخ أحمد شاكر، فلم يستدركها؛ فأوهم صحَّتها.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، ابن أبي السري قد توبع عليه، وباقي السند على شرطهما.
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق