🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه يضاد خبر عائشة الذي تقدم ذكرنا له-
- اس خبر کا ذکر جو ایسے شخص کے وہم کو دور کرتا ہے جو فنِ حدیث کا ماہر نہیں اور اسے گمان ہوا کہ یہ خبر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مخالف ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 34
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ: أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلَ؟، قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُلْتُ: إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّ أَوَّلَ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ: أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلَ؟ قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّ أَوَّلَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ قَالَ جَابِرٌ : لا أُحَدِّثُكَ إِلا مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جَاوَرْتُ فِي حِرَاءَ، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ، فَنُودِيتُ، فَنَظَرْتُ أَمَامِي، وَخَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، فَنُودِيتُ، فَنَظَرْتُ فَوْقِي، فَأَنَا بِهِ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي دَثِّرُونِي، وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، فَأُنْزِلَتْ عَلَيَّ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ سورة المدثر آية 1 - 3 قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي خَبَرِ جَابِرٍ هَذَا: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّر سورة المدثر آية 1 ُ، وَفِي خَبَرِ عَائِشَةَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ سورة العلق آية 1، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ، إِذِ الِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ سورة العلق آية 1 وَهُوَ فِي الْغَارِ بِحِرَاءَ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ دَثَّرَتْهُ خَدِيجَةُ وَصَبَّتْ عَلَيْهِ الْمَاءَ الْبَارِدَ، وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ فِي بَيْتِ خَدِيجَةَ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ سورة المدثر آية 1 - 2 مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَهَاتُرٌ أَوْ تَضَادٌّ.
یحییٰ بن ابوکثیر بیان کرتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے دریافت کیا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ [سورة المدثر: 1] ۔ میں نے کہا: مجھے تو یہ پتا چلا ہے کہ سب سے پہلے قرآن میں سے یہ سورت نازل ہوئی تھی: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا ہے۔ تو ابوسلمہ نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ [سورة المدثر: 1] ۔ میں نے ان سے کہا: مجھے تو یہ پتا چلا ہے کہ سب سے پہلے قرآن میں سے یہ آیت نازل ہوئی تھی: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا۔ تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں وہی بات بتاؤں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے غارِ حرا میں اعتکاف کیا ہوا تھا، جب میرا یہ اعتکاف مکمل ہوا تو میں نیچے اترا اور وادی کے نشیبی حصے میں آ گیا، تو مجھے پکارا گیا، میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف دیکھا لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، پھر مجھے پکارا گیا، میں نے اپنے اوپر دیکھا تو میرے سامنے فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک تخت پر بیٹھا ہوا تھا، تو میں اس سے گھبرا گیا اور میں خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس آ گیا۔ میں نے کہا: مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی بہاؤ۔ پھر مجھ پر یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ﴾ [سورة المدثر: 1-3] اے چادر اوڑھنے والے! آپ کھڑے ہو جائیے اور ڈرایئے اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کیجیے۔(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے منقول اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ قرآن میں سب سے پہلے ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ [سورة المدثر: 1] نازل ہوئی، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت میں یہ مذکور ہے کہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] سب سے پہلے نازل ہوئی۔ ان دونوں روایات میں تضاد نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] اس وقت نازل فرمائی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس گھر تشریف لے آئے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چادر اوڑھنے کے لیے دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹھنڈا پانی ڈالا، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ [سورة المدثر: 1] نازل ہو گئی، تو ان دو روایات کے درمیان کوئی اختلاف یا تضاد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 34]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4، 3238، 4922، 4923، 4924، 4925، 4926، 4954، 6214، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 161، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 34، 35، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3011، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11567، 11568، 11569، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3325، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13464، 17795، 17796، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14508، 14509، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1793، 1794، 1799، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1948، 1949، 2225، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 37713»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (90): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد
Newأبان بن يزيد العطار ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥هدبة بن خالد القيسي، أبو خالد
Newهدبة بن خالد القيسي ← أبان بن يزيد العطار
ثقة
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← هدبة بن خالد القيسي
ثقة مأمون
Sahih Ibn Hibban Hadith 34 in Urdu