صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
137. صدقة التطوع - ذكر البيان بأن صدقة المرء سرا إذا سئل بالله مما يحب الله فاعلها
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کا خفیہ صدقہ، جب وہ اللہ کے نام پر مانگا جائے، وہ چیز ہے جو اللہ کو پسند ہے
حدیث نمبر: 3350
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبِيَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ: يُحِبُّ رَجُلا كَانَ فِي قَوْمٍ، فَأَتَاهُمْ سَائِلٌ، فَسَأَلَهُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ لا يَسْأَلُهُمْ لَقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَبَخِلُوا، فَخَلَفَهُمْ بِأَعْقَابِهِمْ حَيْثُ لا يَرَاهُ إِلا اللَّهُ وَمَنْ أَعْطَاهُ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي كَتِيبَةٍ، فَانْكَشَفُوا، فَكَبَّرَ فَقَاتَلَ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، أَوْ يُقْتَلَ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي قَوْمٍ فَأَدْلَجُوا، فَطَالَتْ دُلْجَتُهُمْ، فَنَزَلُوا وَالنَّوْمُ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ بِهِ، فَنَامُوا، وَقَامَ يَتْلُو آيَاتِي وَيَتَمَلَّقُنِي، وَيُبْغِضُ الشَّيْخَ الزَّانِي، وَالْبَخِيلَ الْمُتَكَبِّرَ"، وَذَكَرَ الثَّالِثَ .
سیدنا ابوذر غفاری رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگوں کواللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور تین لوگوں کو ناپسند کرتا ہےاللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پسند کرتا ہے، جو کچھ لوگوں میں موجود ہو کوئی مانگنے والا ان کے پاس آئے اللہ کے نام پر ان سے مانگے وہ ان لوگوں کے ساتھ اپنی کسی رشتے داری کی وجہ سے ان سے نہ مانگے، تو وہ لوگ کنجوسی کا مظاہرہ کریں (اور اسے کچھ نہ دیں) ان میں سے ایک شخص انہیں چھوڑ کر واپس جائے ایسی جگہ جہاںاللہ تعالیٰ کے علاوہ اسے کوئی نہ دیکھ رہا ہو اور وہ شخص اسے کچھ دیدے۔ ایک وہ شخص جو کسی مہم پر ہو اور وہ لوگ بکھر جائیں، تو وہ تکبیر کہتے ہوئے لڑائی میں کود پڑے، یہاں تک کہاللہ تعالیٰ اسے فتح نصیب کر دے یا وہ شہید ہو جائے۔ ایک وہ شخص جو کچھ لوگوں کے ہمراہ رات کے وقت سفر کر رہا ہو جب رات زیادہ ہو جائے وہ لوگ کسی جگہ پڑاؤ کریں اس وقت نیند ان کے نزدیک سب سے زیادہ پیاری ہو وہ لوگ سو جائیں اور وہ شخص کھڑا ہو کر آیات کی تلاوت کرے اور میری بارگاہ میں التجاء کرے اوراللہ تعالیٰ بوڑھے زانی، کنجوس متکبر کو پسند نہیں کرتا۔ راوی نے تیسرے شخص کا بھی ذکر کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3350]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3339»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
زيد بن ظبيان الكوفي ← أبو ذر الغفاري