صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
163. فصل ذكر الخصال التي تقوم لمعدم المال مقام الصدقة لباذلها
ان اوصاف کا بیان جن کے ذریعے تنگدست شخص صدقہ دینے والے کے برابر اجر پا سکتا ہے - اس بات کا ذکر کہ وہ خصوصیات جو مال نہ رکھنے والے کے لیے صدقہ دینے والے کی جگہ لیتی ہیں
حدیث نمبر: 3377
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ مِنْ نَفْسِ ابْنِ آدَمَ إِلا عَلَيْهَا صَدَقَةٌ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمِنْ أَيْنَ لَنَا صَدَقَةٌ نَتَصَدَّقُ بِهَا؟ فَقَالَ:" إِنَّ أَبُوَابَ الْخَيْرِ لَكَثِيرَةٌ: التَّسْبِيحُ، وَالتَّحْمِيدُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَالتَّهْلِيلُ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهِيُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَتُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَتُسْمِعُ الأَصَمَّ، وَتَهْدِي الأَعْمَى، وَتُدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَتِهِ، وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ مَعَ اللَّهْفَانِ الْمُسْتَغِيثِ، وَتَحْمِلُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ، فَهَذَا كُلُّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”انسان کی ہر ایک سانس کے عوض اس پر ہر اس دن کا صدقہ لازم ہے جس میں سورج نکلتا ہے۔“ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اتنا زیادہ صدقہ دینے کے لیے ہمارے پاس کہاں گنجائش ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بھلائی کے دروازے بہت زیادہ ہیں؛ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہنا، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہنا، «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا، تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دینا، بہرے شخص کو بات سمجھا دینا، نابینا شخص کی رہنمائی کر دینا، کسی کام کے سلسلے میں رہنمائی مانگنے والے کی رہنمائی کر دینا، اپنی ٹانگوں کی مضبوطی کی وجہ سے مدد مانگنے والے پریشان حال شخص کے لیے کوشش کرنا اور اپنے بازوؤں کی مضبوطی کی وجہ سے کمزور شخص کے لیے وزن اٹھا دینا؛ یہ سب تمہاری طرف سے تمہارے نفس کے لیے صدقہ ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3377]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 720، 1006، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 748، 1225، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 474، 529، 838، 3377، 4167، 4192، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8978، 8979، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1285، 1286، 5243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1956، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 927، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21760، والحميدي فى (مسنده) برقم: 133» «رقم طبعة با وزير 3368»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (575).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3377 in Urdu
أبو سعيد المهري ← أبو ذر الغفاري