الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
186. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الزجر عن أن يأخذ المرء شيئا من حطام هذه الدنيا وهو سائل أو شره
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اس فانی دنیا کی کوئی چیز مانگتے ہوئے یا لالچ سے لے
حدیث نمبر: 3401
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الِيَحْصِبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ دِمِشْقَ: إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا حَدِيثًا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ"، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ، وَعَنْ شَرَهٍ، كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ" .
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دمشق کے منبر پر یہ بات بیان کی خبردار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں احتیاط کرو اور اس حدیث کے بارے میں بھی جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہوئی تھی، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں لوگوں کو خوف دلایا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔“ اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”میں خزانچی ہوں میں اپنی رضا مندی کے ساتھ جس شخص کو کوئی چیز دوں گا، تو اس میں اس شخص کے لیے برکت رکھی جائے گی اور جس شخص کو مانگنے کی وجہ سے کچھ دوں گا یا اس کے لالچ کی وجہ سے دوں گا، تو اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہو گی جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3401]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3392»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1194 - 1196).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
معاوية بن أبي سفيان الأموي ← عمر بن الخطاب العدوي