صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
3. - ذكر القدر الذي جاور المصطفى صلى الله عليه وسلم بحراء عند نزول الوحي عليه-
- اس قدر (مدت) کا ذکر جس میں نبی کریم ﷺ پر غارِ حرا میں وحی کے نزول کے وقت قیام رہا۔
حدیث نمبر: 35
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ: أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلَ؟، قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُلْتُ: أَوِ اقْرَأْ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سورة المدثر آية 1، فَقُلْتُ: أَوِ اقْرَأْ، فَقَالَ: إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ، فَنُودِيتُ، فَنَظَرْتُ أَمَامِي، وَخَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّ نُودِيتُ، فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ، فَهُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ، فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ، فَأَمَرْتُهُمْ فَدَثَّرُونِي، ثُمَّ صَبُّوا عَلَيَّ الْمَاءَ، وَأَنْزَلَ الِلَّهِ عَلَيَّ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ سورة المدثر آية 1 - 4 .
یحیی بن ابوکثیر بیان کرتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے دریافت کیا: قرآن کا کون سا حصہ پہلے نازل ہوا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: «یاایھا المدثر» “”
میں نے کہا: (یہ پہلے نازل ہوا تھا) یا اقراء (پہلے نازل ہوا تھا)
تو ابوسلمہ نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: ( «یا ایھا المدثر») پہلے نازل ہوئی تھی، تو میں نے کہا: (یہ پہلے نازل ہوئی تھی) یا اقراء (پہلے ناز کی ہوئی تھی)
تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں گا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان کی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا تھا:
”میں نے غار حرا میں ایک مہینے تک اعتکاف کیا، جب میں نے اپنا یہ اعتکاف مکمل کر لیا، تو میں پہاڑ سے نیچے آیا۔ میں وادی کے نشیبی حصے میں پہنچا، تو مجھے آواز دے کر پکارا گیا۔ میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں طرف دیکھا، لیکن مجھے کوئی نظر نہیں آیا، پھر مجھے پکارا گیا۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا، تو وہ (ایک فرشتہ) خلا میں ایک تخت پر تھا۔ اس کی وجہ سے مجھ پر شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی۔
میں خدیجہ کے پاس آیا اور میری ہدایت پر انہوں نے مجھے اوڑھنے کے لئے چادر دی اور پھر مجھ پر پانی بہایا، تواللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت نازل کی۔
”اے چادر اوڑھنے والے! تم اٹھو اور ڈراؤ اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔“
[صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 35]
میں نے کہا: (یہ پہلے نازل ہوا تھا) یا اقراء (پہلے نازل ہوا تھا)
تو ابوسلمہ نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: ( «یا ایھا المدثر») پہلے نازل ہوئی تھی، تو میں نے کہا: (یہ پہلے نازل ہوئی تھی) یا اقراء (پہلے ناز کی ہوئی تھی)
تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں گا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان کی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا تھا:
”میں نے غار حرا میں ایک مہینے تک اعتکاف کیا، جب میں نے اپنا یہ اعتکاف مکمل کر لیا، تو میں پہاڑ سے نیچے آیا۔ میں وادی کے نشیبی حصے میں پہنچا، تو مجھے آواز دے کر پکارا گیا۔ میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں طرف دیکھا، لیکن مجھے کوئی نظر نہیں آیا، پھر مجھے پکارا گیا۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا، تو وہ (ایک فرشتہ) خلا میں ایک تخت پر تھا۔ اس کی وجہ سے مجھ پر شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی۔
میں خدیجہ کے پاس آیا اور میری ہدایت پر انہوں نے مجھے اوڑھنے کے لئے چادر دی اور پھر مجھ پر پانی بہایا، تواللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت نازل کی۔
”اے چادر اوڑھنے والے! تم اٹھو اور ڈراؤ اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔“
[صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 35]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر الذي قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، الأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو إمام أهل الشام في عصره.
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري