🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الاستحباب للمرء أن يكون له من كل خير حظ رجاء التخلص في العقبى بشيء منها
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ ہر نیکی میں اپنا کچھ نہ کچھ حصہ رکھے تاکہ آخرت میں نجات کی امید ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 361
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، وَابْنُ قُتَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَالِسٌ وَحْدَهُ، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ َ لِلْمَسْجِدِ تَحِيَّةً، وَإِنَّ تَحِيَّتَهُ رَكْعَتَانِ، فَقُمْ فَارْكَعْهُمَا"، قَالَ: فَقُمْتُ فَرَكَعْتُهُمَا، ثُمَّ عُدْتُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِالصَّلاةِ، فَمَا الصَّلاةُ؟ قَالَ:" خَيْرُ مَوْضُوعٍ، اسْتَكْثِرْ أَوِ اسْتَقِلَّ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا؟ قَالَ:" أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَسْلَمُ؟ قَالَ:" مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ الصَّلاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" طُولُ الْقُنُوتِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ هَجَرَ السَّيِّئَاتِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الصِّيَامُ؟ قَالَ:" فَرْضٌ مُجْزِئٌ، وَعِنْدَ اللَّهِ أَضْعَافٌ كَثِيرَةٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَهْدُ الْمُقِلِّ يُسَرُّ إِلَى فَقِيرٍ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" آيَةُ الْكُرْسِيِّ" ثُمَّ، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ مَعَ الْكُرْسِيِّ إِلا كَحَلْقَةٍ مُلْقَاةٍ بِأَرْضٍ فَلاةٍ وَفَضْلُ الْعَرْشِ عَلَى الْكُرْسِيِّ كَفَضْلِ الْفَلاةِ عَلَى الْحَلْقَةِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمِ الأَنْبِيَاءُ؟ قَالَ:" مِائَةُ أَلْفٍ وَعِشْرُونَ أَلْفًا" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمِ الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" ثَلاثُ مِائَةٍ وَثَلاثَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ كَانَ أَوَّلُهُمْ؟ قَالَ:" آدَمُ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَبِيٌّ مُرْسَلٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ، خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ، وَكَلَّمَهُ قِبَلا" ثُمَّ، قَالَ: يَا" أَبَا ذَرٍّ أَرْبَعَةٌ سُرْيَانِيُّونَ: آدَمُ، وَشِيثُ، وَأَخْنُوخُ وَهُوَ إِدْرِيسُ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ خَطَّ بِالْقَلَمِ، وَنُوحٌ وَأَرْبَعَةٌ مِنَ الْعَرَبِ: هُودٌ، وَشُعَيْبٌ، وَصَالِحٌ، وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ كِتَابًا أَنْزَلَهُ اللَّهُ؟ قَالَ:" مِائَةُ كِتَابٍ، وَأَرْبَعَةُ كُتُبٍ، أُنْزِلَ عَلَى شِيثُ خَمْسُونَ صَحِيفَةً، وَأُنْزِلَ عَلَى أَخْنُوخُ ثَلاثُونَ صَحِيفَةً، وَأُنْزِلَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَشَرُ صَحَائِفَ، وَأُنْزِلَ عَلَى مُوسَى قَبْلَ التَّوْرَاةِ عَشَرُ صَحَائِفَ، وَأُنْزِلَ التَّوْرَاةُ وَالإِنْجِيلُ وَالزَّبُورُ وَالْقُرْآنُ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَانَتْ صَحِيفَةُ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ:" كَانَتْ أَمْثَالا كُلُّهَا: أَيُّهَا الْمَلِكُ الْمُسَلَّطُ الْمُبْتَلَى الْمَغْرُورُ، إِنِّي لَمْ أَبْعَثْكَ لِتَجْمَعَ الدُّنْيَا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَكِنِّي بَعَثْتُكَ لِتَرُدَّ عَنِّي دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنِّي لا أَرُدُّهَا وَلَوْ كَانَتْ مِنْ كَافِرٍ، وَعَلَى الْعَاقِلِ مَا لَمْ يَكُنْ مَغْلُوبًا عَلَى عَقْلِهِ أَنْ تَكُونَ لَهُ سَاعَاتٌ: سَاعَةٌ يُنَاجِي فِيهَا رَبَّهُ، وَسَاعَةٌ يُحَاسِبُ فِيهَا نَفْسَهُ، وَسَاعَةٌ يَتَفَكَّرُ فِيهَا فِي صُنْعِ اللَّهِ، وَسَاعَةٌ يَخْلُو فِيهَا لِحَاجَتِهِ مِنَ الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ، وَعَلَى الْعَاقِلِ أَنْ لا يَكُونَ ظَاعِنًا إِلا لِثَلاثٍ: تَزَوُّدٍ لِمَعَادٍ، أَوْ مَرَمَّةٍ لِمَعَاشٍ، أَوْ لَذَّةٍ فِي غَيْرِ مُحَرَّمٍ، وَعَلَى الْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ بَصِيرًا بِزَمَانِهِ، مُقْبِلا عَلَى شَأْنِهِ، حَافِظًا لِلِسَانِهِ، وَمَنْ حَسَبَ كَلامَهُ مِنْ عَمَلِهِ، قَلَّ كَلامُهُ إِلا فِيمَا يَعْنِيهِ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا كَانَتْ صُحُفُ مُوسَى؟ قَالَ:" كَانَتْ عِبَرًا كُلُّهَا: عَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْمَوْتِ، ثُمَّ هُوَ يَفْرَحُ، وَعَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالنَّارِ، ثُمَّ هُوَ يَضْحَكُ، وَعَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْقَدَرِ ثُمَّ هُوَ يَنْصَبُ، عَجِبْتُ لِمَنْ رَأَى الدُّنْيَا وَتَقَلُّبَهَا بِأَهْلِهَا، ثُمَّ اطْمَأَنَّ إِلَيْهَا، وَعَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْحِسَابِ غَدًا ثُمَّ لا يَعْمَلُ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ:" أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، فَإِنَّهُ رَأْسُ الأَمْرِ كُلِّهِ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زِدْنِي، قَالَ:" عَلَيْكَ بِتِلاوَةِ الْقُرْآنِ، وَذِكْرِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ نُورٌ لَكَ فِي الأَرْضِ، وَذُخْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زِدْنِي:، قَالَ:" إِيَّاكَ وَكَثْرَةَ الضَّحِكِ، فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ، وَيَذْهَبُ بِنُورِ الْوَجْهِ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زِدْنِي، قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّمْتِ إِلا مِنْ خَيْرٍ، فَإِنَّهُ مَطْرَدَةٌ لِلشَّيْطَانِ عَنْكَ، وَعَوْنٌ لَكَ عَلَى أَمْرِ دِينِكَ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زِدْنِي، قَالَ:" عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ، فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زِدْنِي، قَالَ:" أَحِبَّ الْمَسَاكِينَ وَجَالِسْهُمْ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي، قَالَ:" انْظُرْ إِلَى مَنْ تَحْتَكَ وَلا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ فَوْقَكَ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لا تُزْدَرَى نِعْمَةُ اللَّهِ عِنْدَكَ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي، قَالَ:" قُلِ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي، قَالَ:" لِيَرُدَّكَ عَنِ النَّاسِ مَا تَعْرِفُ مِنْ نَفْسِكَ وَلا تَجِدْ عَلَيْهِمْ فِيمَا تَأْتِي، وَكَفَى بِكَ عَيْبًا أَنْ تَعْرِفَ مِنَ النَّاسِ مَا تَجْهَلُ مِنْ نَفْسِكَ، أَوْ تَجِدَ عَلَيْهِمْ فِيمَا تَأْتِي" ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى صَدْرِي، فقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ لا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ، وَلا وَرَعَ كَالْكَفِّ، وَلا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ هَذَا، هُوَ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وُلِدَ عَامَ حُنَيْنٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَاتَ بِالشَّامِ سَنَةَ ثَمَانِينَ وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ مِنْ كِنْدَةَ، مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ، مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الشَّامِ وَقُرَّائِهِمْ، سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيَّ، وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَمَوْلِدُهُ يَوْمَ رَاهِطَ، فِي أَيَّامِ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَزِيدَ، سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَوَلاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَضَاءَ الْمَوْصِلِ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَأَهْلَ الْحِجَازِ، فَلَمْ يَزَلْ عَلَى الْقَضَاءِ بِهَا حَتَّى وَلِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْخِلافَةَ، فَأَقَرَّهُ عَلَى الْحُكْمِ فَلَمْ يَزَلْ عَلَيْهَا أَيَّامَهُ، وَعُمِّرَ حَتَّى مَاتَ بِدِمَشْقَ سَنَةَ ثَلاثٍ وَثَلاثِينَ وَمِائَةٍ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا، تو وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! مسجد کے لئے ایک نفلی (نماز) ہوتی ہے اور اس کی نفلی (نماز) دو رکعات ہے۔ تم اٹھ کر انہیں ادا کر لو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ان دو رکعات کو ادا کر لیا پھر میں واپس آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے نماز کا حکم دیا نماز کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک بھلائی رکھ دی گئی ہے۔ (اب تمہاری مرضی ہے) کہ تم زیادہ حاصل کرتے ہو یا کم حاصل کرتے ہو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اہل ایمان میں سے ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ کامل کون شخص ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اہل ایمان میں سے سب سے زیادہ سلامتی والا کون شخص ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ سلامت ہوں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں قیام طویل ہو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گناہوں سے لاتعلق ہو جائے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! روزہ کیا چیز ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک فرض ہے، جو کافی ہو جاتا ہے اوراللہ تعالیٰ کے ہاں (اس کا اجر و ثواب) کئی گنا ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں (گھوڑے کے) پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور اس کا خون بہا دیا جائے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس پیسے کم ہوں اور جسے یہ اندیشہ ہو کہ وہ غریب ہو جائے گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو کچھ بھی نازل کیا ہے۔ اس میں سب سے عظیم چیز کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آیت الکرسی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: (اللہ تعالیٰ کی) کرسی کے مقابلے میں سات آسمان اس طرح ہیں، جیسے کسی بے آب و گیاہ جگہ کے اوپر ایک چھلہ (انگوٹھی) ہو اور عرش کو کرسی پر وہی فضیلت حاصل ہے۔ جس طرح اس آب و گیاہ جگہ کو اس چھلے (انگوٹھی) پر فضیلت حاصل ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! انبیاء کتنے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ بیس ہزار میں نے عرض کی: اس میں سے رسول کتنے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین سو تیرہ کا گروہ ہے۔ میں نے عرض کی: ان میں سب سے پہلے کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا: سیدنا آدم علیہ السلام میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا وہ رسول نبی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا اور ان میں اپنی روح کو پھونکا اور سامنے آ کر ان سے کلام کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! چار حضرات سریانی ہیں۔ سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا شیث علیہ السلام، سیدنا اخنوخ علیہ السلام یہ سیدنا ادریس علیہ السلام اور یہ وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے قلم کے ذریعے لکھا تھا، اور سیدنا نوح علیہ السلام چار حضرات کا تعلق عرب سے ہے۔ سیدنا ہود علیہ السلام، سیدنا شعیب علیہ السلام، سیدنا صالح علیہ السلام اور تمہارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل کی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سو چار کتابیں سیدنا شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے نازل ہوئے۔ سیدنا اخنوخ علیہ السلام پر تیس صحیفے نازل ہوئے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر دس صحیفے نازل ہوئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات سے پہلے دس صحیفے نازل ہوئے پھر تورات، انجیل، زبور اور قرآن نازل ہوئے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا صحیفہ کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سارے کا سارا مثالوں والا تھا، لیکن اس میں یہ تحریر تھا۔ اے بادشاہ! جسے اقتدار عطا کیا گیا ہے اور آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے اور غلط فہمی کا شکار کیا گیا میں نے تمہیں اس لئے نہیں بھیجا تاکہ تم ایک دوسرے کے مقابلے میں دنیا جمع کرو، میں نے تمہیں اس لئے بھیجا ہے، تاکہ تم مظلوم کی بددعا کو مجھ تک نہ آنے دو، کیونکہ میں مظلوم کی دعا کو مسترد نہیں کرتا۔ خواہ وہ کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو اور عقلمند شخص پر یہ بات لازم ہے کہ جب تک اس کی عقل مغلوب نہیں ہوتی وہ اپنے وقت کو مختلف حصوں میں تقسیم کرے کچھ وقت میں وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کرتا رہے۔ کچھ وقت میں وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے کچھ وقت میں وہاللہ تعالیٰ کی تخلیق پر غور و فکر کرتا رہے اور کچھ وقت وہ اپنے کھانے پینے کی تیاری کے لئے مخصوص رکھے۔ عقلمند شخص پر یہ بات لازم ہے کہ وہ تین چیزوں کی تیاری رکھے۔ اپنے انجام (یعنی آخرت) کے لئے زادراہ کی، اپنی زندگی گزارنے کے لئے ضروریات زندگی کی، یا پھر ایسی لذت کی جو حرام نہ ہو اور عقلمند شخص پر یہ بات لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے کی بصیرت رکھتا ہوا اپنے حال کی طرف متوجہ رہے۔ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور جو شخص اپنے عمل کے مقابلے میں اپنے کلام کا حساب رکھتا ہے اس کا کلام کم ہوتا ہے اور صرف وہی کلام ہوتا ہے، جو انتہائی ضروری ہو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا موسی علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ ساری کی ساری عبرت آمیز باتیں تھیں۔ (جن میں سے کچھ باتیں یہ ہیں) مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے، جو موت پر یقین رکھتا ہے اور پھر بھی وہ خوش رہتا ہے۔ مجھے اس شخص پر بھی حیرانگی ہوتی ہے، جو جہنم پر بھی یقین رکھتا ہے اور پھر بھی وہ ہنستا ہے مجھے اس شخص پر بھی حیرانگی ہوتی ہے، جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے اور پھر بھی وہ نصب کر لیتا ہے۔ مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے، جو دنیا اور اہل دنیا کی حالات کی تبدیلی کو دیکھتا ہے اور پھر بھی وہ دنیا سے مطمئن ہوتا ہے۔ مجھے اس شخص پر بھی حیرانگی ہوتی ہے، جو حساب پر یقین رکھتا ہے اور پھر بھی عمل نہیں کرتا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیںاللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ یہ تمام معاملے کی بنیاد ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر قرآن کی تلاوت کرنا اوراللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا لازم ہے اور کیونکہ یہ زمین میں تمہارے لئے نور ہو گا اور آخرت میں تمہارے لئے ذخیرہ ہو گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر لازم ہے کہ زیادہ ہنسنے سے بچو، کیونکہ یہ چیز دل کو مردہ کر دیتی ہے اور چہرے کے نور کو رخصت کر دیتی ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر خاموشی اختیار کرنا لازم ہے، البتہ بھلائی کی بات کا حکم مختلف ہے، کیونکہ یہ چیز تم سے شیطان کو پرے کر دے گی اور تمہارے دین کے معاملے میں تمہارے لئے مددگار ہو گی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پر جہاد کرنا لازم ہے، کیونکہ یہ میری امت کی رہبانیت ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے سے نیچے والے کی طرف دیکھو اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھو، کیونکہ اس طرح تم اپنے پاس موجوداللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کم تر نہیں سمجھو گے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید عطا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم حق بات کہو اگرچہ وہ کڑوی ہو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہونا یہ چاہئے کہ وہ چیز تمہیں لوگوں سے پرے کر دے، جسے تم اپنی ذات کے حوالے سے جانتے ہو اور جو کام تم خود کرتے ہو اس کی وجہ سے لوگوں کے خلاف جذبات نہ رکھو۔ اور تمہارے عیب دار ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ تم لوگوں کے حوالے سے اس چیز کی شناخت رکھو جس سے تم اپنے حوالے سے ناواقف ہو یا لوگوں کے خلاف اس حوالے سے جذبات رکھو جو تم خود کرتے ہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک میرے سینے پر مار کر ارشاد فرمایا: اے ابوذر! تدبیر کی مانند کوئی عقلمندی نہیں ہے اور رکنے کی مانند کوئی ورع (پرہیز) نہیں ہے اور اچھے اخلاق کی مانند کوئی حسب نہیں ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوادریس خولانی نامی یہ راوی عائذ الله بن عبداللہ ہے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں غزوہ حنین کے سال پیدا ہوئے تھے اور سن 80ھ میں ان کا شام میں انتقال ہوا تھا۔ یحیی بن یحییٰ غسانی نامی راوی کا تعلق کندہ سے ہے، اور یہ دمشق کا رہنے والا ہے۔ یہ شام کے علم فقہ اور علم قرأت کے ماہرین میں سے ایک ہے انہوں نے ابوادریس خولانی سے احادیث کا سماع پندرہ سال کی عمر میں کیا تھا ان کی پیدائش راہط کے دن معاویہ بن یزید کے دور خلافت میں 64ھ میں ہوئی تھی۔ سلیمان بن عبدالملک نے انہیں موصل کا قاضی مقرر کیا تھا۔ انہوں نے سعید بن مسیب اور اہل حجاز سے احادیث کا سماع کیا ہے یہ وہاں قاضی کے منصب پر اس وقت تک فائز رہے، جب تک عمر بن عبدالعزیز خلیفہ نہیں بن گئے پھر حکم نے انہیں برقرار رکھا اور اس کے عہد خلافت میں یہ مسلسل اسی عہدے پر فائز رہے ان کی عمر طویل ہوئی تھی یہاں تک کہ ان کا انتقال 133ھ میں دمشق میں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 361]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 362»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف جداً - «الضعيفة» (1910 و 6090).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف جداً، إبراهيم بن هشام بن يحيى بن يحيى الغساني الدمشقي، قال أبو حاتم: كذاب، كما في «الجرح والتعديل» 2/ 142، 143، وقال الذهبي: متروك، وكذبه أبو زرعة، كما في «ميزان الاعتدال» 1/ 73 و4/ 378.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥أبو إدريس الخولاني، أبو إدريس
Newأبو إدريس الخولاني ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥يحيى بن يحيى الغساني، أبو عثمان
Newيحيى بن يحيى الغساني ← أبو إدريس الخولاني
ثقة
👤←👥هشام بن يحيى الغساني، أبو عثمان، أبو الوليد
Newهشام بن يحيى الغساني ← يحيى بن يحيى الغساني
صدوق حسن الحديث
👤←👥إبراهيم بن هشام الغساني، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن هشام الغساني ← هشام بن يحيى الغساني
متروك الحديث
👤←👥محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، أبو العباس
Newمحمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي ← إبراهيم بن هشام الغساني
ثقة
👤←👥الحسين بن عبد الله الرقي، أبو علي
Newالحسين بن عبد الله الرقي ← محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي
ثقة
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← الحسين بن عبد الله الرقي
ثقة