صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
92. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من لزوم العبادة في السر والعلانية رجاء النجاة في العقبى بها
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ ظاہر و باطن دونوں میں عبادت پر قائم رہے تاکہ آخرت میں نجات کی امید ہو۔
حدیث نمبر: 362
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، فقَالَ:" يَا مُعَاذُ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ، قَالَ:" يَا مُعَاذُ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا"، قَالَ: ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ، قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ، إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ"؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لا يُعَذِّبَهُمْ" .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سواری پر) سوار تھا، میرے اور آپ کے درمیان صرف پالان کی پچھلی لکڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ!“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر چلتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ!“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم جانتے ہو اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔“ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر چلتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو جب بندے ایسا کر لیں، تو پھر بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندوں کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ جب وہ ایسا کر لیں، تو اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 362]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2856، 5967، 6267، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 30، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 362، 200، 210، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5846، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2559، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2643، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4296، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22413، والحميدي فى (مسنده) برقم: 373» «رقم طبعة با وزير 363»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2307): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 362 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← معاذ بن جبل الأنصاري