صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
137. باب الإخلاص وأعمال السر - ذكر البيان بأن من راءى في عمله يكون في القيامة من أول من يدخل النار نعوذ بالله منها
اخلاص اور پوشیدہ اعمال کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ جو شخص اپنے عمل میں ریاکاری کرے گا وہ قیامت کے دن سب سے پہلے جہنم میں داخل ہونے والوں میں سے ہوگا، ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 408
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ أَبُو عُثْمَانَ الْمَدَنِيُّ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ شُفَيًّا الأَصْبَحِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ، فقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَلَمَّا سَكَتَ وَخَلا، قُلْتُ لَهُ: أَنْشُدُكَ بِحَقِّي لَمَا حَدَّثْتَنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتَهُ وَعَلِمْتَهُ، فقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَفْعَلُ، لأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتَهُ وَعَلِمْتُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً فَمَكَثَ قَلِيلا، ثُمَّ أَفَاقَ، فقَالَ: لأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى، فَمَكَثَ كَذَلِكَ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَمَسَحَ عَنْ وَجْهِهِ، فقَالَ: أَفْعَلُ، لأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَهُ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ نَشَغَ نَشْغَةً شَدِيدَةً، ثُمَّ مَالَ خَارًّا عَلَى وَجْهِهِ، وَاشْتَدَّ بِهِ طَوِيلا، ثُمَّ أَفَاقَ، فقَالَ: حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، يَنْزِلُ إِلَى الْعِبَادِ لِيَقْضِيَ بَيْنَهُمْ، وَكُلُّ أُمَّةٍ جَاثِيَةٌ فَأَوَّلُ مَنْ يَدْعُو بِهِ رَجُلٌ جَمَعَ الْقُرْآنَ، وَرَجُلٌ، يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْقَارِئِ: أَلَمْ أُعَلِّمْكَ مَا أَنْزَلْتُ عَلَى رَسُولِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ: فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمْتَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: كَذَبْتَ وَتَقُولُ لَهُ الْمَلائِكَةُ: كَذَبْتَ، وَيَقُولُ اللَّهُ: بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: فُلانٌ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْمَالِ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ حَتَّى لَمْ أَدَعْكَ تَحْتَاجُ إِلَى أَحَدٍ؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ: فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَصِلُ الرَّحِمَ وَأَتَصَدَّقُ؟ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: كَذَبْتَ، وَتَقُولُ الْمَلائِكَةُ لَهُ: كَذَبْتَ، وَيَقُولُ اللَّهُ: بَلْ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: فُلانٌ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ وَيُؤْتَى بِالَّذِي قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقَالُ لَهُ: فِي مَاذَا قُتِلْتَ؟ فَيَقُولُ: أُمِرْتُ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِكَ، فَقَاتَلْتُ حَتَّى قُتِلْتُ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: كَذَبْتَ، وَتَقُولُ لَهُ الْمَلائِكَةُ: كَذَبْتَ وَيَقُولُ اللَّهُ: بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: فُلانٌ جَرِئٌ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ" ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكْبَتِي، فقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أُولَئِكَ الثَّلاثَةُ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تُسَعَّرُ بِهِمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ: فَأَخْبَرَنِي عُقْبَةُ أَنَّ شُفَيًّا هُوَ الَّذِي دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَخْبَرَهُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ الْوَلِيدُ وَحَدَّثَنِي الْعَلاءُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ كَانَ سَيَّافًا لِمُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَحَدَّثَهُ بِهَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ فُعِلَ بِهَؤُلاءِ مِثْلُ هَذَا، فَكَيْفَ بِمَنْ بَقِيَ مِنَ النَّاسِ؟ ثُمَّ بَكَى مُعَاوِيَةُ بُكَاءً شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ هَالِكٌ، وَقُلْنَا: قَدْ جَاءَنَا هَذَا الرَّجُلُ بِشَرٍّ، ثُمَّ أَفَاقَ مُعَاوِيَةُ، وَمَسَحَ عَنْ وَجْهِهِ، فقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا، نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا، وَهُمْ فِيهَا لا يُبْخَسُونَ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلا النَّارُ، وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا، وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة هود آية 15 - 16 قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلْفَاظُ الْوَعِيدِ فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَنِ كُلُّهَا مَقْرُونَةٌ بِشَرْطٍ، وَهُوَ: إِلا أَنْ يَتَفَضَّلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَى مُرْتَكِبِ تِلْكَ الْخِصَالِ بِالْعَفْوِ وَغُفْرَانِ تِلْكَ الْخِصَالِ، دُونَ الْعُقُوبَةِ عَلَيْهَا وَكُلُّ مَا فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَنِ مِنْ أَلْفَاظِ الْوَعْدِ مَقْرُونَةٌ بِشَرْطٍ، وَهُوَ: إِلا أَنْ يَرْتَكِبَ عَامِلُهَا مَا يَسْتَوْجِبُ بِهِ الْعُقُوبَةَ عَلَى ذَلِكَ الْفِعْلِ، حَتَّى يُعَاقَبَ، إِنْ لَمْ يَتَفَضَّلَ عَلَيْهِ بِالْعَفْوِ، ثُمَّ يُعْطَى ذَلِكَ الثَّوَابَ الَّذِي وُعِدَ بِهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْفِعْلِ.
عقبہ بن مسلم بیان کرتے ہیں: شفی اصجی نے انہیں یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ وہ مدینہ منورہ کی مسجد میں داخل ہوئے، تو وہاں ایک صاحب موجود تھے جن کے اردگرد لوگ بھی موجود تھے۔ شفی نے دریافت کیا: یہ کون صاحب ہیں، تو لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ شفی کہتے ہیں: میں ان کے قریب ہو کر ان کے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔ وہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے جب وہ خاموش ہوئے اور تنہا رہ گئے، تو میں نے ان سے دریافت کیا: میں آپ کو اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو اور آپ نے اسے سمجھا ہو اور جان لیا ہو، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ایسا کرتا ہوں میں تمہیں ایک ایسی حدیث بتاتا ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی تھی اور میں نے اسے سمجھا بھی تھا، اور جان بھی لیا تھا پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک سسکی لی پھر تھوڑا وقت گزر گیا جب ان کی طبیعت سنبھلی، تو انہوں نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سنائی تھی اس وقت اس گھر میں، میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہمارے ساتھ اور کوئی موجود نہیں تھا پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دوسری مرتبہ سسکی لی پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے، جب ان کی طبیعت سنبھلی، تو انہوں نے اپنے چہرے سے پسینہ صاف کیا اور بولے: میں ایسا کرتا ہوں میں ایک ایسی حدیث بیان کروں گا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بیان کی تھی۔ اس وقت اس گھر میں، میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میرے ساتھ کوئی موجود نہیں تھا پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے زیادہ زور سے سسکی لی اور وہ اپنے چہرے کے بل گرنے کی طرح آگے کی طرف جھکے اس مرتبہ ان کی یہ کیفیت طویل ہوئی پھر جب ان کی طبیعت سنبھلی، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی تھی: ”جب قیامت کا دن ہو گا، تواللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے نزول فرمائے گا اور ہر امت گھٹنوں کے بل موجود ہو گی، تو سب سے پہلےاللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بلائے گا، جس نے قرآن کو جمع کیا (یعنی اس کا علم حاصل کیا) اور ایک ایسے شخص کو جس کواللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید کیا گیا ہو اور ایک ایسے شخص کو جس کے پاس مال بہت زیادہ تھا انہیں بلایا جائے گا)اللہ تعالیٰ قرآن کے عالم سے کہے گا: میں نے اپنے رسول پر جو نازل کیا تھا کیا اس کا علم میں نے تمہیں نہیں دیا تھا؟ وہ جواب دے گا: جی ہاں! میرے پروردگاراللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے جو علم حاصل کیا ہے اس بارے میں تم نے کیا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا۔ میں رات دان اس کے ساتھ مصروف رہا۔اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم نے جھوٹ کہا: ہے۔ فرشتے بھی اس شخص سے کہیں گے کہ تم نے جھوٹ کہا: ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا: جائے: فلاں شخص قرآن کا عالم ہے، تو یہ بات کہہ دی گئی۔ پھر مال دار شخص کو لایا جائے گا، پھراللہ تعالیٰ دریافت کرے گا کیا میں نے تمہیں کشادگی عطا نہیں کی تھی، یہاں تک کہ میں نے تمہیں ایسی حالت میں رکھا تھا کہ تمہیں کسی کی بھی ضرورت نہ ہو؟ وہ عرض کرے گا جی ہاں! میرے پروردگار!اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے جو کچھ تمہیں دیا تھا اس بارے میں تم نے کیا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا میں صلہ رحمی کرتا رہا اور خیرات کرتا رہا، تواللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے غلط کہا: ہے۔ فرشتے بھی اس سے یہ کہیں گے تم نے غلط کہا: ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا: جائے: فلاں شخص سخی ہے، تو یہ بات کہہ دی گئی۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا، جسے (دنیا میں) اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا تھا، تو اس سے یہ دریافت کیا جائے گا تمہیں کیوں قتل کیا گیا؟ وہ جواب دے گا مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا میں نے جنگ میں حصہ لیا، یہاں تک کہ مجھے قتل کر دیا گیا، تواللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم نے غلط کہا: ہے فرشتے بھی اس سے کہیں گے تم نے غلط کہا: ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا: جائے کہ وہاں شخص کتنا بہادر ہے، تو یہ بات کہہ دی گئی۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھٹنوں پر ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا: ”اے ابوہریرہ! یہاللہ تعالیٰ کی مخلوق کے پہلے تین لوگ ہوں گے جن کے ذریعے قیامت کے دن جہنم کو بھرکایا جائے گا۔“ (یعنی جنہیں سب سے پہلے جہنم میں ڈالا جائے گا) ولید بن ابوولید بیان کرتے ہیں عقبہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے ”شفی“ نامی راوی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اس حدیث کے بارے میں بتایا۔ ابوعثمان ولید نے یہ بات بیان کی ہے۔ علاء بن ابوحکیم نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے جلاد تھے وہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث ان کے سامنے بیان کی، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان لوگوں کے ساتھ اس طرح ہو گا، تو باقی لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ انتہائی زیادہ روئے یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ کہیں وہ ہلاکت کا شکار نہ ہو جائیں۔ ہم نے کہا: یہ شخص ایک برائی لے کر آیا ہے پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو افاقہ ہوا، تو انہوں نے اپنے چہرے کو پونچھا اور کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے۔ ”جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ کرتا ہے، تو ہم دنیا میں اسے اس کے اعمال کا پورا بدلہ دے دیں گے اور انہیں اس میں کوئی کمی نہیں کی جائیگی، یہ وہ لوگ ہیں، جن کا آخرت میں حصہ صرف جہنم میں ہو گا، اور انہوں نے دنیا میں، جو کچھ کیا وہ ضائع ہو جائیگا، اور جو عمل وہ کرتے رہے وہ باطل ہوں گے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کتاب اور سنت میں وعید کے جتنے بھی الفاظ ہیں، وہ سب شرط کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اور وہ یہ ہے: اگراللہ تعالیٰ چاہے، تو اپنے فضل کے ساتھ ان باتوں کے مرتکب شخص کو معاف کر سکتا ہے، اور ان غلطیوں کی مغفرت کر سکتا ہے۔ ان پر (آدمی کو سزا نہ دے) اور کتاب و سنت میں وعدے کے جتنے بھی الفاظ ہیں، وہ اس شرط کے ساتھ ملے ہوتے ہیں کہ اس پر عمل کرنے والا شخص کسی ایسی چیز کا مرتکب نہیں ہو گا، جو اس فعل کے ارتکاب پر سزا کو لازم کر دے، یہاں تک کہ اسے سزا دی جائے اگر اس پر معافی کا فضل نہیں کیا جاتا۔ پھر اس شخص کو اس چیز کا ثواب ملے گا، جو وعدہ اس فعل کے حوالے سے اس شخص کے ساتھ کیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 408]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کتاب اور سنت میں وعید کے جتنے بھی الفاظ ہیں، وہ سب شرط کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اور وہ یہ ہے: اگراللہ تعالیٰ چاہے، تو اپنے فضل کے ساتھ ان باتوں کے مرتکب شخص کو معاف کر سکتا ہے، اور ان غلطیوں کی مغفرت کر سکتا ہے۔ ان پر (آدمی کو سزا نہ دے) اور کتاب و سنت میں وعدے کے جتنے بھی الفاظ ہیں، وہ اس شرط کے ساتھ ملے ہوتے ہیں کہ اس پر عمل کرنے والا شخص کسی ایسی چیز کا مرتکب نہیں ہو گا، جو اس فعل کے ارتکاب پر سزا کو لازم کر دے، یہاں تک کہ اسے سزا دی جائے اگر اس پر معافی کا فضل نہیں کیا جاتا۔ پھر اس شخص کو اس چیز کا ثواب ملے گا، جو وعدہ اس فعل کے حوالے سے اس شخص کے ساتھ کیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 408]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 409»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 29 - 30): م مختصراً.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. الوليد بن أبي الوليد، من رجال مسلم، وترجمه ابن أبي حاتم: 9/ 19، 20 ونقل توثيقه عن أبي زرعة، ووثقه الإمام الذهبي في «الكاشف»: 3/ 243، وذكره المؤلف في «الثقات» 5/ 494 و7/ 552، وقد وهم الحافظ في «التقريب» فوصفه بقوله: لين الحديث، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
شفي بن ماتع الأصبحي ← أبو هريرة الدوسي