صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
138. باب حق الوالدين
والدین کے حقوق کا بیان -
حدیث نمبر: 409
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا رَقِيَ عَتَبَةً، قَالَ:" آمِينَ" ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً أُخْرَى، فقَالَ:" آمِينَ" ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً ثَالِثَةً، فقَالَ:" آمِينَ" ثُمَّ، قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ، فقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، قُلْتُ: آمِينَ، قَالَ: وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا، فَدَخَلَ النَّارَ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، قُلْتُ: آمِينَ، فقَالَ: وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، قُلْ: آمِينَ، فَقُلْتُ: آمِينَ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ قَدِ اسْتَحَبَّ لَهُ تَرْكُ الانْتِصَارِ لِنَفْسِهِ، وَلا سِيَّمَا إِذَا كَانَ الْمَرْءُ مِمَّنْ يُتَأَسى بِفِعْلِهِ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا، قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ:" مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ" بَادَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِأَنْ، قَالَ: آمِينَ وَكَذَلِكَ فِي قَوْلِهِ:" وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ، أَوْ أَحَدَهُمَا، فَدَخَلَ النَّارَ، أَبْعَدَهُ اللَّهُ" فَلَمَّا، قَالَ لَهُ:" وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ" فَلَمْ يُبَادِرْ إِلَى قَوْلِهِ:" آمِينَ" عِنْدَ وُجُودِ حَظِّ النَّفْسِ فِيهِ، حَتَّى، قَالَ جِبْرِيلُ قُلْ: آمِينَ، قَالَ: قُلْتُ:" آمِينَ" أَرَادَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، التَّأَسِّي بِهِ فِي تَرْكِ الانْتِصَارِ لِلنَّفْسِ بِالنَّفْسِ، إِذِ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا هُوَ نَاصِرُ أَوْلِيَائِهِ فِي الدَّارَيْنِ، وَإِنْ كَرِهُوا نُصْرَةَ الأَنْفُسِ فِي الدُّنْيَا.
مالک بن حسن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (سیدنا مالک بن حورث رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے جب آپ نے پہلے زینے پر قدم رکھا، تو آپ نے کہا: آمین اور جب آپ نے دوسرے زینے پر قدم رکھا، تو آپ نے کہا: آمین جب آپ نے تیسرے زینے پر قدم رکھا، تو آپ نے کہا: آمین پھر آپ نے ارشاد فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو، تواللہ تعالیٰ اسے (اپنی رحمت سے) دور کر دے، تو میں نے کہا: آمین، جبرائیل نے کہا: جو شخص اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو جائے، تواللہ تعالیٰ اسے (اپنی رحمت سے) دور کرے، تو میں نے کہا: آمین، جبرائیل نے کہا: جس شخص کے سامنے آپ کا تذکرہ ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے، تواللہ تعالیٰ اسے (اپنی رحمت سے دور کر دے، آپ آمین کہیں، تو میں نے آمین کہا:۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آدمی کے لئے یہ بات مستحب ہے کہ اپنی ذات کے لئے مدد حاصل کرنے کو ترک کر دے خصوصا اس صورت میں جب آدمی ایسی شخصیت کا مالک ہو، جس کے فعل کی پیروی کی جاتی ہو اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے یہ کہا: ”جو شخص رمضان کا مہینہ پا لے اور اس کی مغفرت نہ ہو، تواللہ تعالیٰ اسے اپنی مغفرت سے دور کر دے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے یہ کہا: آمین۔ اسی طرح جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے یہ کہا: ”جو شخص اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور جہنم میں داخل ہو جائے، تواللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کر دے۔“ (تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً آمین کہہ دیا) لیکن جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کے سامنے یہ کہا: جس شخص کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے، اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے، تواللہ تعالیٰ اسے (اپنی رحمت سے دور کر دے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً آمین نہیں کہا:۔ کیونکہ اس جملے میں آپ کی ذات کا حصہ موجود تھا۔ یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے گزارش کی کہ آپ آمین کہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے آمین کہہ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد یہ تھی: اس بارے میں آپ اسوہ قائم کریں کہ اپنی ذات کے لئے کسی دوسرے سے مدد حاصل نہیں کرنی ہے، کیونکہاللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اپنے دوستوں کا مددگار ہے، اگرچہ وہ دنیا میں لوگوں کی مدد کو ناپسند کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 409]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 410»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «التعليق الرغيب» (2/ 66).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عمران بن أبان هو الواسطي، قال الحافظ في «التقريب»: ضعيف، روى له النسائي، وقال ابن عدي في «الضعفاء» 5/ 1744: لم أر في حديثه منكراً. ومالك بن الحسن، قال العقيلي: فيه نظر، وقال الذهبي: منكر الحديث، وقال ابن عدي في «الضعفاء» 6/ 2378 - بعد أن أورد حديثه هذا وأربعة أحاديث أخرى من طريق عمران الواسطي عنه: هذه الأحاديث بهذا الإسناد عن مالك بن الحسن هذا لا يرويها عن مالك إلا عمران بن أبان الواسطي، وعمران بن أبان لا يأس به، وأظن أن البلاء فيه من مالك بن الحسن هذا، فإن هذا الإسناد بهذا الحديث لا يتابعه عليها أحد.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥مالك بن الحويرث الليثي، أبو سليمان | صحابي | |
👤←👥مالك بن الحسن الليثي مالك بن الحسن الليثي ← مالك بن الحويرث الليثي | منكر الحديث | |
👤←👥عمران بن أبان القرشي، أبو موسى عمران بن أبان القرشي ← مالك بن الحسن الليثي | ضعيف الحديث | |
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد الحسن بن علي الهذلي ← عمران بن أبان القرشي | ثقة حافظ له تصانيف | |
👤←👥عبد الله بن صالح البخاري، أبو محمد عبد الله بن صالح البخاري ← الحسن بن علي الهذلي | ثقة ثبت |
مالك بن الحسن الليثي ← مالك بن الحويرث الليثي