صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
77. - باب حرمة المناكحة - ذكر الإخبار عن نفي جواز نكاح المرء بنت أخيه من الرضاع
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کا اپنے رضاعی بھتیجی سے نکاح جائز نہیں
حدیث نمبر: 4111
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْكِحْ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ لأُخْتِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، وَأَحَبُّ مَنْ يُشَارِكُنِي فِي خَيْرِ أُخْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّ ذَلِكَ لا يَحِلُّ"، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ حُدِّثْنَا أَنَّكَ تُنْكِحُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ:" ابْنَةُ أَبِي سَلَمَةَ?!"، فَقَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: نَعَمْ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي، مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةَ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ: ثُوَيْبَةُ، فَلا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلا أَخَوَاتِكُنَّ" .
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ابوسفیان کی صاحبزادی سے شادی کر لیجیے، انہوں نے اپنی بہن کے بارے میں یہ بات کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، میں یہ چاہتی ہوں اس بھلائی میں میری بہن بھی میرے ساتھ شریک ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جائز نہیں ہے۔“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! ہمیں تو یہ بات بتائی گئی ہے آپ ابوسلمہ کی صاحبزادی درہ کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ابوسلمہ کی بیٹی کے ساتھ؟“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ میری سوتیلی بیٹی نہ ہوتی پھر بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے رشتے میرے سامنے پیش نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4111]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4111، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 13955» «رقم طبعة با وزير 4099»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4111 in Urdu
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← رملة بنت أبي سفيان الأموية