صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
148. - باب معاشرة الزوجين - ذكر الزجر عن ضرب النساء إذ خير الناس خيرهم لأهله
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ عورتوں کو مارا جائے کیونکہ بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے اہل کے لیے بہترین ہوں
حدیث نمبر: 4186
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الرِّجَالَ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَضَرَبُوهُنَّ، فَبَاتَ فَسَمِعَ صَوْتًا عَالِيًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟"، قَالُوا: أَذِنْتَ لِلرِّجَالِ فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ، فَضَرَبُوهُنَّ، فَنَهَاهُمْ، وَقَالَ: " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ، وَأَنَا مِنْ خَيْرِكُمْ لأَهْلِي" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: کچھ مردوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خواتین (یعنی اپنی بیویوں) کو مارنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ان لوگوں نے اپنی بیویوں کی پٹائی کی۔ رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سنائی دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس کی وجہ کیا ہے لوگوں نے بتایا: آپ نے مردوں کو خواتین کی پٹائی کرنے کی اجازت دی ہے تو ان مردوں نے خواتین کی پٹائی کی (جس کی وجہ سے وہ خواتین رونے لگیں اور اس کی یہ آواز ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو اس سے منع کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور میں اپنی بیوی کے حق میں تم سب سے زیادہ بہتر ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4186]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4174»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره دون سبب الورود - «الصحيحة» (285)، «التعليق الرغيب» (3/ 72) *. * قال الشيخ: وَأَمَّا قولُ المُعَلِّقِ على الكتاب «طبعة المؤسسة» (9/ 492): «حسن لغيره»! فهو غير دقيقٍ مِنْ ناحيتين: الأولى: أَنَّهُ - مع اعترافِه بضعف إسناده - إِنَّمَا يَجوزُ تَحسينهُ لغيره، لو جاء الحديث هكذا بهذا التمام مِنْ طُرُقٍ - أو طريقٍ واحد على الأقلّ -؛ يتقوىَّ به، وهذا غير موجودٍ، فيبقى على الضَّعفِ. والآخرُ: أَنَّ المرفوع مِنَ الحديث: «خيركم ... » قد جاء من طُرُقٍ، بَعضُها صحيحٌ؛ كما هو مُبَيَّنٌ في «الصحيحة»، فالاقتصارُ على تحسينه قُصورٌ، فالصواب ما ذكرت أعلاه: المتنُ صحيحٌ، وسببُ وُرودِه ضعيفٌ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حسن لغيره
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي