صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
149. - باب معاشرة الزوجين - ذكر البيان بأن المرء جائز له أن يؤدب امرأته بهجرانها مدة معلومة
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ایک مخصوص مدت تک ہجر کرکے اسے تأدیب کرے
حدیث نمبر: 4187
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ لَهُمَا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4، حَتَّى حَجَّ، فَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَعَدَلَ، وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةٍ فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ لَهُمَا اللَّهُ: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4، فَقَالَ عُمَرُ: وَاعَجَبًا مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ هِيَ حَفْصَةُ، وَعَائِشَةُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَنَا، وَجَارٌ لِي مِنَ الأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ يَوْمًا، وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَكُنَّا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الأَنْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ نِسَاءِ الأَنْصَارِ، فَصَخِبَتْ عَلَيَّ امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي، قَالَتْ: وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ، وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، فَأَفْزَعَنِي ذَلِكَ، فَقُلْتُ: خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ، ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فنزلتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، فَقُلْتُ لَهَا: يَا حَفْصَةُ، أَتُغْضِبُ إِحْدَاكُنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ أَفَتَأْمَنِينَ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِينَ؟، لا تَسْتَنْكِرِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا تُرَاجِعِيهِ، وَلا تَهْجُرِيهِ، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَضْوَأَ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ عُمَرُ: وَقَدْ تُحِدِّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تَنْعَلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا، فَنَزَلَ صَاحِبِي الأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ، فَرَجَعَ إِلَيَّ عَشِيًّا، فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا، فَفَزِعْتُ، خَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ حَدَثَ أَمَرٌ عَظِيمٌ، قُلْتُ: مَا هُوَ أَجَاءَتْ غَسَّانُ؟، قَالَ: لا، بَلْ أَعْظَمُ وَأَطْوَلُ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، قَالَ عُمَرُ: قُلْتُ: خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ هَذَا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ، قَالَ: فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَصَلَّيْتُ صَلاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْرُبَةً لَهُ اعْتَزَلَ فِيهَا، قَالَ: وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، قُلْتُ: وَمَا يُبْكِيكِ؟ أَلَمْ أَكُنْ أُحَذِّرُكِ هَذَا، أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: لا أَدْرِي، هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ، فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ الْمِنْبَرَ، فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ يَبْكُونَ، فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِغُلامٍ أَسْوَدَ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، قَالَ: فَدَخَلَ الْغُلامُ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ، فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ فَقُلْتُ لِلْغُلامِ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ، ثُمَّ رَجَعَ، قَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا إِذَا الْغُلامُ يَدْعُونِي، يَقُولُ: قَدْ أَذِنَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئً عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟، فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَ:" لا"، فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَكُنَّا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ نِسَاءَنَا، فَلَمَّا أَنْ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، قَدِمْنَا عَلَى قَوْمٍ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَصَخِبَتْ عَلَيَّ امْرَأَتِي، فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَتُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، وَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، قَالَ: قُلْتُ قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذًا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ؟، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: لا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَسُّمًا آخَرَ، قَالَ: فَجَلَسْتُ حِينَ رَأيَتُهُ تَبَسَّمَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ بَصَرِيَ فِي بَيْتِهِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أُهْبَةٍ ثَلاثَةٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ، فَإِنَّ فَارِسَ، الرُّومَ قَدْ أُوسِعَ عَلَيْهِمْ، وَأُعْطُوا الدُّنْيَا، وَهُمْ لا يَعْبُدُونَ اللَّهَ، قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، ثُمَّ قَالَ:" أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ?، أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا"، قَالَ: فَقُلْتُ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ وَكَانَ، قَالَ:" مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا" مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّا أَصْبَحْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً عَدَّهَا، فَقَالَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، وَكَانَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بڑے عرصے سے میری یہ خواہش تھی کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو خواتین کے بارے میں دریافت کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے تعلق رکھتی ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ ”اگر تم اللہ کی بارگاہ میں توبہ کر لو (تو یہ بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل مائل ہو گئے تھے۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج پر گئے ان کے ساتھ میں بھی حج پر گیا وہ (قضائے حاجت کرنے کیلئے) ایک طرف ہٹ گئے میں بھی ان کے ہمراہ برتن لے کر ایک طرف ہٹ گیا انہوں نے قضائے حاجت کی پھر وہ تشریف لائے میں نے ان کے دونوں ہاتھوں پر برتن میں سے پانی انڈیلا انہوں نے وضو کیا میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے تعلق رکھنے والی وہ دو خواتین کون تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں، توبہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس تم پر حیرت ہے (کہ تم نے پہلے اس بارے میں سوال کیوں نہیں کیا) وہ حفصہ اور عائشہ تھیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ سنایا انہوں نے بیان کیا۔ میں اور بنوامیہ بن زید سے تعلق رکھنے والا میرا ایک پڑوسی (راوی کہتے ہیں:) بنوامیہ بن زید مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں رہتے تھے ہم دونوں باری باری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن وہ حاضر ہوتا تھا اور ایک دن میں حاضر ہوتا تھا جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو اس دن کی اطلاعات جن کا تعلق وحی سے ہوتا تھا یا دیگر امور سے ہوتا تھا وہ لے آتا تھا اور جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو وہ بھی ایسا ہی کیا کرتا تھا ہم قریش سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم انصار کے ہاں آئے تو وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی بیویاں ان پر غالب تھیں، تو ہماری عورتوں نے انصار کی خواتین سے یہ طریقہ سیکھنا شروع کر دیا ایک دن میں نے اپنی بیوی پر ناراضگی کا اظہار کیا تو اس نے مجھے پلٹ کے جواب دیا: میں نے اس کے جواب دینے پر غصے کا اظہار کیا تو اس نے کہا: میں نے آپ کو جواب دیا ہے، اس بات پر کیوں غصہ کر رہے ہیں اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک زوجہ محترمہ ایسی ہے جو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض رہتی ہے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) اس بات نے مجھے خوف زدہ کر دیا میں نے کہا: ان ازواج میں سے جو ایسا کرتی ہے وہ خسارے کا شکار ہو جائے گی پھر میں نے اپنی چادر لپیٹی اور (مدینہ منورہ آ گیا) وہاں میں حفصہ بنت عمر کے پاس آیا میں نے اس سے کہا: اے حفصہ کیا تم (یعنی ازواج مطہرات) میں سے کوئی ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض ہوتی ہے اور سارا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض رہتی ہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں میں نے کہا: وہ تو رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی کیا تم لوگ خود کو اس سے محفوظ سمجھتی ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہو جائے اور تمہیں ہلاکت کا شکار کر دے گا۔ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات پراعتراض نہ کیا کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے جواب نہ دیا کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لاتعلق نہ رہا کرو تمہاری جو ضروریات ہوتی ہیں تم مجھ سے مانگ لیا کرو اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ خوبصورت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے (راوی کہتے ہیں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دنوں ہم یہ بات چیت کر رہے تھے کہ غسان قبیلے کے لوگ ہمارے ساتھ جنگ کیلئے ساز و سامان تیار کر رہے ہیں اپنی باری کے دن میرا انصاری پڑوسی (مدینہ منورہ) آیا جب وہ شام کے وقت واپس آیا تو اس نے میرے دروازے پر زور سے دستک دی میں گھبرا گیا میں باہر نکل کر اس کے پاس آیا اس نے کہا: ایک عظیم واقعہ رونما ہو گیا ہے میں نے دریافت کیا: کیا ہوا؟ کیا غسان (قبیلے کے لوگ) آ گئے ہیں۔ اس نے جواب دیا: جی نہیں اس سے زیادہ بڑا اور اس سے زیادہ طویل ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: حفصہ رسوا ہو گئی اور خسارے شکار ہو گئی مجھے یہ اندازہ تھا کہ ایسا ایک دن ہو کر رہے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنی چادر اوڑھی اور فجر کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کی (نماز ادا کرنے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تشریف لے گئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم علیحدہ طور پر رہ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں حفصہ کے پاس آیا تو وہ رو رہی تھی میں نے دریافت کیا تم کیوں رو رہی ہو کیا میں نے تمہیں اس چیز سے ڈرانے کی کوشش نہیں کی تھی کیا اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو طلاق دے دی ہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بالا خانے میں علیحدہ آرام فرما ہیں (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے) باہر آیا اور منبر کے قریب آ گیا وہاں منبر کے ارد گرد کچھ لوگ موجود تھے وہ رو رہے تھے میں تھوڑی دیر ان کے ساتھ بیٹھا رہا پھر مجھے جو اندیشہ تھا وہ مجھ پر غالب آیا تو میں اس بالا خانے کے پاس آیا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے میں نے سیاہ فام لڑکے سے کہا: تم عمر کیلئے اندر آنے کی اجازت مانگو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں وہ لڑکا اندر گیا اس نے باہر آ کے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو میں واپس آ گیا (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں واپس آ گیا اور ان لوگوں کے ساتھ آ کے بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے پھر میری جو کیفیت تھی وہ مجھ پر غالب آئی اور میں نے آ کر لڑکے سے کہا: تم عمر کیلئے اندر آنے کی اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر واپس آیا اور بولا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ابھی وہاں سے مڑا ہی تھا کہ اس لڑکے نے مجھے بلایا اور بولا: اللہ کے رسول نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چھال سے بنی ہوئی چٹائی کے اوپر لیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر اس کا نشان موجود تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کے بنے ہوئے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کیا پھر میں نے کھڑے ہوئے ہی عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور ارشاد فرمایا: جی نہیں۔ میں نے کہا: اللہ اکبر یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں ملاحظہ کیا ہے ہم قریش سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی بیویوں پر غالب ہوتے تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہم ایک ایسی قوم کے پاس آ گئے جن کی بیویاں ان پر غالب تھیں ایک دن میں نے اپنی بیوی پر ناراضگی کا اظہار کیا تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا: میں نے اس کی اس حرکت پر حیرانگی کا اظہار کیا تو اس نے کہا: کیا آپ اس بات پر حیران ہو رہے ہیں کہ میں نے آپ کو جواب دیا ہے اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواج بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض رہتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: حفصہ رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی کیا وہ ازواج اس بات سے محفوظ ہو گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہو جائے گا اور وہ عورت جس پر (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے ہیں) ہلاکت کا شکار ہو جائے گی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے پھر میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حفصہ کے پاس گیا میں نے کہا: یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ خوبصورت اور زیادہ محبوب ہے۔ میری مراد عائشہ تھیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر دوسری مرتبہ مسکرا دیئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو میں بیٹھ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے جب اس بالا خانے کا جائزہ لیا تو اللہ کی قسم! مجھے اس میں صرف تین خشک کھالیں نظر آئیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو کشادگی عطا کرے کیونکہ اہل فارس اور اہل روم کو کشادگی عطا کی گئی ہے ان لوگوں کو دنیا کی نعمتیں دی گئی ہیں حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے حالانکہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک لگائی ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے بیٹے کیا تمہیں شک ہے یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں نعمتیں دنیاوی زندگی میں پہلے دے دی گئی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے اس وجہ سے علیحدگی اختیار کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ازواج پر شدید ناراضگی کی وجہ سے یہ کہا: تھا کہ میں ایک ماہ تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر تنبیہ کی اور جب انتیس دن گزر گئے تو آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ان کے پاس گئے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک ماہ تک تشریف نہیں لائیں گے ابھی تو صرف انتیس دن گزرے ہیں میں نے ان کی گنتی کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہینہ کبھی 29 دن کا بھی ہوتا ہے مہینہ کبھی 29 دن کا بھی ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4187]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4175»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي