علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
5. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم دعها عنك إنما هو نهي نهاه عن الكون معها-
- اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "دعها عنك" سے مراد یہ ہے کہ اس نے اس سے ہجر کرنے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 4217
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ بِنْتَ أَبِي إِِهَابٍ، فَزَعَمَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا. فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذكرتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَجِئْتُهُ مِنَ الْجَانِبِ الآخَرِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّهَا كَاذِبَةٌ. قَالَ:" فَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا؟" فَنَهَاهُ عَنْهَا . أَخْبَرَنَاهُ هَذَا الشَّيْخُ فِي وَسَطِ أَحَادِيثِ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ مَشَايخِهِ.
سیدنا عقبہ بن حارث اللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے ابواہاب کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی تو ایک سیاہ فام عورت نے یہ بات بیان کی کہ اس نے ان دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہوا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا میں دوسری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ عورت جھوٹ کہتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب کیا ہو سکتا ہے جب کہ اس نے یہ بات بیان کر دی ہے اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو اس خاتون سے منع کر دیا (یعنی انہیں اس خاتون سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم دیا)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس شیخ (یعنی امام ابن حبان رحمہ اللہ کے استاد محمد بن عمر) نے نصر بن علی کی یزید بن زریع کے حوالے سے ان کے مشائخ کے حوالے سے منقول روایات کے درمیان ہمیں اس روایت کے بارے میں بتایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4217]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 88، 2052، 2640، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1086، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4216، 4217، 4218، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5885، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3330، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3603، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1151، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 990، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15771، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4369، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16399» «رقم طبعة با وزير 4204»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2154): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4217 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عقبة بن الحارث القرشي