صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
30. باب العدة - ذكر الإخبار بأن انقضاء عدة الحامل وضعها حملها وإن كان ذلك في مدة يسيرة-
عدت کا بیان - خبر کہ حاملہ عورت کی عدت بچے کی پیدائش پر ختم ہو جاتی ہے خواہ مدت تھوڑی ہی کیوں نہ ہو
حدیث نمبر: 4294
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ كَتَبَ إِِلَى عُمَرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمِ الزُّهْرِيّ أَنِ ادْخُلْ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الأَسْلَمِيَّةِ ، فَاسْأَلْهَا عَمَّا أَفْتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَمْلِهَا، قَالَ: فَدَخَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَوَلَدَتْ قَبْلَ أَنْ يَمْضِيَ لَهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ مِنْ وَفَاةِ بَعْلِهَا، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا، دَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَرَآهَا مُتَجَمِّلَةً، فَقَالَ لَهَا: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ قَبْلَ أَنْ يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ. قَالَتْ: فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ أَبِي السَّنَابِلِ، جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ وَاسْتَفْتَيْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ حَلَلْتِ حِينَ وَضَعْتِ حَمَلَكَ" .
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ کو خط لکھا کہ تم سیدہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے اس بارے میں دریافت کرو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حمل کے بارے میں فتوی دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں تو عمر بن عبداللہ وہاں گئے انہوں نے اس خاتون سے دریافت کیا: تو اس خاتون نے انہیں بتایا کہ وہ سیدنا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہا تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ان کا انتقال حجۃ الوداع کے موقع پر ہو گیا تو اس خاتون نے اپنے شوہر کے انتقال کے چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی بچے کو جنم دے دیا جب وہ نفاس سے پاک ہو گئی تو بنو عبدالدار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ابوسنابل بن بعکک ان کے پاس آئے انہوں نے اس خاتون کو بنے سنورے دیکھا تو اس خاتون سے کہا: شاید تم چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہو۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب میں نے ابوسنابل کی زبانی یہ بات سنی تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی اور مسئلہ دریافت کیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے بچے کو جنم دیا تھا تو اس وقت تمہاری عدت ختم ہو گئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4294]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4280»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1996): م، خ معلقاً بِتمَامه وموصولاً مختصراً.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عمر بن عبد الله القرشي ← سبيعة بنت الحارث الأسلمية