صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
15. باب الكتابة - ذكر البيان بأن المكاتبة عليها أن تحتجب عن مكاتبها إذا علمت أن عنده الوفاء لما كوتب عليه-
مکاتبت کا بیان - جب مکاتب غلام کے پاس ادائیگی کی استطاعت ہو جائے تو عورت مکاتَبہ پر پردہ لازم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4322
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ كَاتَبَتْهُ فَبَقِيَ مِنْ كِتَابَتِهِ أَلْفَا دِرْهَمٍ، قَالَ نَبْهَانُ: كُنْتُ أَمْسِكُهَا لِكَيْ لا تَحْتَجِبَ عَنِّي أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَ: فَحَجَجْتُ، فَرَأَيْتُهَا بِالْبَيْدَاءِ، فَقَالَتْ لِي: مَنْ ذَا؟ فَقُلْتُ: أَنَا أَبُو يَحْيَى. فَقَالَتْ لِي: أَيْ بُنَيَّ، تَدْعُو إِِلَيَّ ابْنَ أَخِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ وَتُعْطِي فِي نِكَاحِهِ الَّذِي لِي عَلَيْكَ، وَأَنَا أَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلامَ. قَالَ: فَبَكَيْتُ وَصِحْتُ، وَقُلْتُ: وَاللَّهِ لا أَدْفَعُهَا إِِلَيْهِ أَبَدًا. فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِِذَا كَانَ عِنْدَ مُكَاتَبِ إِِحْدَاكُنَّ مَا يَقْضِي عَنْهُ فَاحْتَجِبِي". فَوَاللَّهِ لا تَرَانِي إِِلا أَنْ تَرَانِي فِي الآخِرَةِ .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام نیہان بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے ساتھ کتابت کا معاہدہ کر لیا ان کی کتابت کی رقم میں سے دو ہزار درہم باقی رہ گئے۔ نیہان کہتے ہیں میں نے ان کی ادائیگی نہیں کی تاکہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا مجھ سے پردہ کرنا نہ شروع کر دیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں حج کے لیے گیا میں نے بیداء کے مقام پر انہیں دیکھا تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: کون ہے؟ میں نے جواب دیا: میں ابویحیی ہوں، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے تم میرے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن ابوامیہ کو میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس کے نکاح میں وہ رقم خرچ کرو جو میں نے تم سے لینی ہے اور میں تمہیں سلام کرتی ہوں۔ نیہان کہتے ہیں میں رو پڑا اور میری آواز نکل گئی میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں انہیں کبھی بھی یہ ادائیگی نہیں کروں گا تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ”جب تم خواتین میں سے کسی کے مکاتب کے پاس کتنی رقم موجود ہو جس کے ذریعے وہ (اپنے کتابت کے معاہدے کی) مکمل ادائیگی کر سکے تو تم (اس مقاطب غلام سے) پردہ کرو۔“ (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا) اللہ کی قسم! اب تم مجھے صرف آخرت میں ہی دیکھ سکو گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4322]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4307»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الإرواء» (1769).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حسن صحيح
الرواة الحديث:
نبهان مولى أم سلمة ← أم سلمة زوج النبي