صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
29. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام أن يقصي من نفسه آكل البصل من رعيته إلى أن يذهب ريحها-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ اپنی رعایا میں سے بصل کھانے والے کو اس وقت تک دور رکھے جب تک اس کی بو ختم نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 4509
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّ عَلَى زَرَّاعَةِ بَصَلٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَنَزَلَ نَاسٌ فَأَكَلُوا مِنْهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آخَرُونَ، فَرُحْنَا إِِلَيْهِ، فَدَعَا الَّذِينَ لَمْ يَأْكُلُوا الْبَصَلَ، وَأَخَّرَ الآخَرِينَ حَتَّى ذَهَبَ رِيحُهَا" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیاز کے کھیت کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب بھی تھے۔ لوگوں نے وہاں پڑاؤ کیا، کچھ لوگوں نے پیاز کو کھا لیا اور کچھ نے نہیں کھایا۔ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بلوایا جنہوں نے پیاز نہیں کھایا تھا اور دوسرے لوگوں کو اس وقت تک پیچھے کر دیا جب تک ان کی بو ختم نہیں ہو گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4509]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 566، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4509» «رقم طبعة با وزير 4492»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (566).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4509 in Urdu
عبد الله بن خباب الأنصاري ← أبو سعيد الخدري