صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
179. باب فضل الشهادة - ذكر البيان بأن الأنبياء لا يفضلون الشهداء إلا بدرجة النبوة فقط-
باب شہادت کی فضیلت - اس بیان کا ذکر کہ انبیاء علیہم السلام کو شہداء پر صرف نبوت کے درجہ کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے
حدیث نمبر: 4663
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّ أَبَا الْمُثَنَّى الْمُلَيْكِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدِ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْقَتْلَى ثَلاثَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَتَّى إِِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ، فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُمْتَحَنُ، فِي خَيْمَةِ اللَّهِ، تَحْتَ عَرْشِهِ، وَلا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِِلا بِفَضْلِ دَرَجَةِ النُّبُوَّةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَتَّى إِِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَتِلْكَ مَصْمَصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ، إِِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا، وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، فَإِِنَّ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ، وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ، وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَتَّى إِِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَلِكَ فِي النَّارِ، إِِنَّ السَّيْفَ لا يَمْحُو النِّفَاقَ" .
سیدنا عتبہ بن عبدسلمی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: قتل ہونے والے لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ شخص جو مومن ہو، جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے تو اس کے ساتھ لڑتا ہوا شہید ہو جاتا ہے یہ وہ شہید ہے جسے آزمائش میں مبتلا کیا گیا یہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے خیمے میں ہو گا اور انبیاء کو اس پر صرف مرتبہ نبوت کی فضیلت حاصل ہو گی۔ ایک وہ شخص ہے جو گناہوں اور خطاؤں میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد کرتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے، تو لڑتا ہوا شہید ہو جاتا ہے تو یہ وہ چیز ہے، جس نے اس کے گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دیا بے شک تلوار گناہوں کو مٹا دیتی ہے ایسا شخص جنت کے جس بھی دروازے سے چاہے گا اندر داخل ہو جائے گا جنت کے آٹھ دروازے ہیں جہنم کے سات دروازے ہیں ان میں سے بعض دوسروں پر فضیلت رکھتے ہیں اور ایک وہ شخص ہے جو منافق ہو گا جو جان اور مال کے ہمراہ جہاد میں حصہ لے گا یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرے گا تو لڑتا ہوا مارا جائے گا یہ شخص جہنم میں جائے گا کیونکہ تلوار منافقت کو ختم نہیں کر سکتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4663]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4644»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 192).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
ضمضم الحمصي ← عتبة بن عبد السلمي