صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
355. باب الغنائم وقسمتها - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن المسلمين إذا اشتركا في قتل قتيل كان الخيار إلى الإمام في إعطاء أحدهما سلبه دون الآخر-
غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - ایک خبر کا ذکر جس سے بعض اہلِ علم کو وہم ہوا کہ جب دو مسلمان کسی کافر کو قتل کریں تو امام کو اختیار ہے کہ جسے چاہے سلب دے
حدیث نمبر: 4840
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ:" بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ بَيْنَ الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلامَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ غَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ: أَيْ عَمِّ؟ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا بْنَ أَخِي، فَقَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُهُ لا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الأَعْجَلُ مِنَّا، قَالَ: فَأَعْجَبَنِي قَوْلُهُ، قَالَ: فَغَمَزَنِي الآخَرُ، وَقَالَ مِثْلَهَا، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ رَأَيْتُ أَبَا جَهْلٍ يَجُولُ بَيْنَ النَّاسِ، فَقُلْتُ لَهُمَا: هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلانِي عَنْهُ، فَابْتَدَرَاهُ، فَضَرَبَاهُ بِسَيْفِهِمَا فَقَتَلاهُ، ثُمَّ أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَاهُ بِمَا صَنَعَا، فَقَالَ: " أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟" فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ، فَقَالَ:" هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَكُمَا؟" قُلْنَا: لا، قَالَ: فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كِلاكُمَا قَتَلَهُ"، ثُمَّ قَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، قَالَ: وَالرَّجُلانِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّتِنَا أَنَّ سَلَبَ الْقَتِيلِ إِذَا اشْتَرَكَ النَّفْسَانِ فِي قَتْلِهِ يَكُونُ خِيَارُهُ إِلَى الإِمَامِ بِأَنْ يُعْطِيَهُ أَحَدَ الْقَاتِلَيْنِ مَنْ شَاءَ مِنْهُمَا، وَكُنَّا نَقُولُ بِهِ مُدَّةً، ثُمَّ تَدَبَّرْنَا، فَإِذَا هَذِهِ الْقِصَّةُ كَانَتْ يَوْمَ بَدْرٍ، وَحِينَئِذٍ لَمْ يَكُنْ حُكْمُ سَلَبِ الْقَتِيلِ لِقَاتِلِهِ، وَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ، كَانَ الْخِيَارُ إِلَى الإِمَامِ أَنْ يُعْطِيَ ذَلِكَ أَيَّمَا شَاءَ مِنَ الْقَاتِلَيْنِ، كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَلَبِ أَبِي جَهْلٍ حَيْثُ أَعْطَاهُ مُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَكَانَ هُوَ وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ قَاتِلَيْهِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلا فَلَهُ سَلَبُهُ، فَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَيَوْمُ حُنَيْنٍ بَعْدَ بَدْرٍ بِسَبْعِ سِنِينَ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ عَلَى أَنَّ الْقَاتِلَيْنِ إِذَا اشْتَرَكَا فِي قَتِيلٍ كَانَ السَّلَبُ لَهُمَا مَعًا.
سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر میں صف میں کھڑا ہوا تھا جب میں نے اپنے دائیں اور بائیں طرف دیکھا تو میں دو انصاری لڑکوں کے درمیان تھا ابھی میں اسی حالت میں تھا کہ ان دونوں میں سے ایک نے مجھے ٹہوکا دیا اور بولا: اے چچا! کیا آپ ابوجہل بن ہشام کو پہچانتے ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اے میرے بھتیجے تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: مجھے یہ بتایا گیا ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہتا ہے اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا جسم اس کے جسم سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گا جب تک ہم دونوں میں سے وہ شخص مر نہیں جاتا جسے پہلے موت آنی ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس کی بات سے متاثر ہوا تو دوسرے نے مجھے ٹہوکا دیا اس نے بھی اسی کی مانند بات کہی اسی دوران میں نے ابوجہل کو لوگوں کے درمیان گھومتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان دونوں سے کہا: یہ رہا وہ شخص جس کے بارے میں تم دونوں مجھ سے دریافت کر رہے تھے وہ دونوں اس کی طرف لپکے ان دونوں نے اس پر تلوار کا وار کیا اور اسے قتل کر دیا، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس عمل کے بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟ ان دونوں نے یہی کہا: میں نے اسے قتل کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم دونوں نے اپنی تلواروں کو صاف کر لیا ہے؟ ہم نے (یعنی ان دونوں نے) جواب دیا: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی تلواروں کا جائزہ لیا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم دونوں ہی نے اسے قتل کیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابوجہل) کا ساز و سامان (یعنی ہتھیار وغیرہ) معاذ بن عمرو بن جموح کو دیئے جانے کا فیصلہ دیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) وہ دو لڑکے سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو نقل کرتے ہوئے ہمارے ائمہ کی ایک جماعت کو غلط فہمی ہوئی کہ جس کافر کو قتل کرنے میں دو آدمی حصہ دار ہوں اس کافر (کے ساز و سامان) کے بارے میں امیر کو اختیار ہو گا کہ وہ اس سامان کو دونوں قاتلوں میں سے کسی ایک کو دیدے جسے بھی وہ چاہے ہم ایک عرصہ تک اس کے مطابق فتوی دیتے رہے۔ پھر ہم نے غور و فکر کیا (تو یہ بات سامنے آئی) یہ واقعہ غزوہ بدر کا ہے اور اس وقت یہ حکم نہیں تھا کہ مقتول کا ساز و سامان قاتل کو ملے گا تو جب یہ صورتحال تھی تو (اس وقت) اختیار امیر کے پاس تھا کہ وہ اس سامان کو دونوں قاتلوں میں سے جسے چاہے دیدے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کے سامان کے بارے میں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سامان سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو دے دیا حالانکہ وہ اور سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ (دونوں ابوجہل) کے قاتل تھے۔ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق ہے ”جو کسی (کافر) کو قتل کرے تو اس (کافر) کا ساز و سامان اسے مل جائے گا۔“ یہ فرمان غزوہ حنین کے موقع کا ہے اور غزوہ حنین، غزوہ بدر کے سات سال بعد پیش آیا تھا۔ اس بنیاد پر میں یہ کہتا ہوں جب دو (مجاہد) کسی (کافر) کو قتل کرنے میں حصہ دار ہوں تو (اس کافر کا) ساز و سامان ان دونوں کو ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4840]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4820»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (229): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
إبراهيم بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الرحمن بن عوف الزهري