صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
41. باب البيع المنهي عنه - ذكر البيان بأن الله جل وعلا حرم بيع الخمر كما حرم شربها-
ممنوعہ بیوع کا بیان - بیان کہ اللہ تعالیٰ نے شراب کی خرید و فروخت کو اسی طرح حرام کیا جیسے اس کے پینے کو حرام کیا۔
حدیث نمبر: 4944
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا خَرَجَ وَالْخَمْرُ حَلالٌ، فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا عَلَى بَعِيرٍ حَتَّى وَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا مَعَكَ؟" قَالَ: رَاوِيَةٌ مِنْ خَمْرٍ أَهْدَيْتُهَا لَكَ، قَالَ:" هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَرَّمَهَا؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا"، فَالْتَفَتَ الرَّجُلُ إِلَى قَائِدِ الْبَعِيرِ، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَقَامَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاذَا قُلْتَ لَهُ؟" قَالَ: أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا، قَالَ:" إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا" ، قَالَ: فَأَمَرَ بِعَزَالِي الْمَزَادَةِ فَفُتِحَتْ، فَخَرَجْتُ فِي التُّرَابِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي الْبَطْحَاءِ مَا فِيهَا شَيْءٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جس زمانے میں شراب کو حرام قرار نہیں دیا گیا تھا ایک شخص (اپنے گھر سے) نکلا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا ایک مشکیزہ تحفے کے طور پر پیش کرنا تھا۔ وہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریف فرما پایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تمہارے ساتھ کیا ہے۔ اس نے عرض کی: شراب کا مشکیزہ ہے جو میں نے آپ کو تحفے کے طور پر پیش کرنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دے دیا ہے۔ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دے دیا ہے تو وہ شخص اونٹ کو لے کر چلنے والے شخص کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے پست آواز میں اس کے ساتھ کوئی بات کی تو وہ شخص کھڑا ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم نے اس سے کیا کہا: ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے اسے حکم دیا ہے وہ اس کو فروخت کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جس چیز کے پینے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس کے فروخت کرنے کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو اس شخص نے حکم دیا اس مشکیزے کا منہ کھول دیا گیا اور اس میں سے شراب نکل کر مٹی میں مل گئی۔ میں کھلے میدان میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا؟ یہاں تک کہ اس مشکیزے میں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4944]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4923»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4921). تنبيه!! رقم (4921) = (4942) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن وعلة السبئي ← عبد الله بن العباس القرشي