صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
6. ذكر الخبر المصرح بنفي جواز الإيثار في النحل بين الأولاد-
- اس خبر کا بیان جو صراحتاً اولاد کے درمیان عطیہ میں ایثار کے عدمِ جواز پر دلالت کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 5102
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَعْطَاهُ غُلامًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا الْغُلامُ؟" قَالَ: غُلامٌ أَعْطَانِيهِ أَبِي، قَالَ: " فَكُلُّ إِخْوَتِكَ أَعْطَاهُ كَمَا أَعْطَاكَ؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَارْدُدْهُ"، وَقَالَ لأَبِيهِ:" لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد نے انہیں غلام عطیے کے طور پر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کس کا غلام ہے۔ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ غلام ہے جو میرے والد نے مجھے عطا کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا انہوں نے تمہارے تمام بھائیوں کو اسی طرح عطا کیا ہے، جس طرح تمہیں عطا کیا ہے؟ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے واپس کر دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد سے فرمایا: تم کسی زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5102]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5080»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
عامر الشعبي ← النعمان بن بشير الأنصاري