صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
249. فصل من البر والإحسان
فصل نیکی اور احسان -
حدیث نمبر: 522
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَلامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَعَلِّمْنَا شَيْئًا يَنْفَعُنَا اللَّهُ بِهِ، فقَالَ: " لا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَلَوْ أَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ، وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ وَإِيَّاكَ، وَإِسْبَالَ الإِزَارِ، فَإِنَّهُ مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَلا يُحِبُّهَا اللَّهُ وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ، فَلا تَشْتُمْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّ أَجْرَهُ لَكَ، وَوَبَالَهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الأَمْرُ بِتَرْكِ اسْتِحْقَارِ الْمَعْرُوفِ أَمْرٌ قُصِدَ بِهِ الإِرْشَادُ، وَالزَّجْرُ عَنْ إِسْبَالِ الإِزَارِ زَجْرُ حَتْمٍ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ وَهِيَ الْخُيَلاءُ، فَمَتَى عُدِمَتِ الْخُيَلاءُ، لَمْ يَكُنْ بِإسْبَالِ الإِزَارِ بَأْسٌ وَالزَّجْرُ عَنِ الشَّتِيمَةِ إِذَا شُوتِمَ الْمَرْءُ، زَجْرٌ عَنْهُ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، وَقَبْلَهُ، وَبَعْدَهُ، وَإِنْ لَمْ يُشْتَمْ.
سیدنا ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں دیہات کا رہنے والا شخص ہوں۔ آپ ہمیں ایسی چیز کی تعلیم دیجیے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں نفع دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم کسی بھی نیکی کو حقیر ہرگز نہ سمجھنا، خواہ وہ نیکی یہ ہو کہ تم اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی انڈیل دو، خواہ وہ نیکی یہ ہو کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے مل لو۔ اور تم تہبند کو لٹکانے سے بچنا، کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی شخص کسی ایسی چیز کے حوالے سے تمہیں برا کہے جس کے بارے میں وہ یہ جانتا ہے کہ یہ خامی تمہارے اندر ہے، تو تم ایسی چیز کے حوالے سے اس کو برا نہ کہنا جس کے بارے میں تم یہ جانتے ہو کہ یہ خامی اس کے اندر ہے۔ تمہارا اجر تمہیں مل جائے گا اور اس کا وبال اس شخص پر ہوگا جس نے وہ بات کہی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نیکی کو حقیر نہ سمجھنے کا حکم ہونا، یہ ایک ایسا امر ہے جس کے ذریعے رہنمائی کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے، اور تہبند کو لٹکانے سے ممانعت کا حکم ایک لازمی حکم ہے جو ایک متعین علت کی وجہ سے ہے اور وہ تکبر کرنا ہے، تو جب تکبر کرنے کی علت معدوم ہو تو تہبند کو لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ اور جب آدمی کو برا کہا جائے، تو اس وقت برا کہنے سے ممانعت کا حکم ایسا ہے جو اس وقت کے لیے بھی ہے، اس سے پہلے کے لیے بھی ہے اور اس کے بعد کے لیے بھی ہے، اگرچہ آدمی کو برا نہ کہا گیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 521، 522، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7475، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9611،وأبو داود فى (سننه) برقم: 4075، 4084، 5209، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2721، 2722،والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21155، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16201» «رقم طبعة با وزير 523»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1352).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عقيل بن طلحة فمن رجال أبي داود والنسائي وابن ماجة، وهو ثقة، أبو جري هو سليم بن جابر، ويقال: جابر بن سليم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 522 in Urdu
عقيل بن طلحة السلمي ← سليم بن جابر الهجيمي