یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
69. باب الضيافة-
مہمان نوازی کا بیان -
حدیث نمبر: 5281
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى رَاعِي إِبِلٍ، فَلْيُنَادِي: يَا رَاعِيَ الإِبِلِ، ثَلاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ، وَإِلا فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ، وَلا يَحْمِلَنَّ، وَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى حَائِطٍ فَلْيُنَادِ، ثَلاثًا: يَا أَصْحَابَ الْحَائِطِ، فَإِنْ أَجَابَهُ، وَإِلا فَلْيَأْكُلْ وَلا يَحْمِلَنَّ" . قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الضِّيَافَةُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا زَادَ فَصَدَقَةٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ عِلَّةُ الأَمْرِ، وَهِيَ اضْطِرَارُ الْمَرْءِ وَحَاجَتُهُ إِلَيْهِ دُونَ تَلَفِ النَّفْسِ، دُونَ الْقُدْرَةِ وَالسَّعَةِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص اونٹوں کے چرواہے (یعنی چرنے والے اونٹوں) کے پاس آئے تو بلند آواز میں تین مرتبہ پکارے: اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ اسے جواب دیدے تو ٹھیک ہے ورنہ ان کا دودھ دوہ کر پی لے اور جب کوئی شخص کسی باغ کے پاس آئے تو تین مرتبہ بلند آواز میں پکارے: اے باغ والو! اگر وہ اس کا جواب دیں تو ٹھیک ہے ورنہ وہ (اس باغ میں سے کھجوریں) کھا لے لیکن وہ اٹھا کے ہرگز نہ لے جائے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”مہمان نوازی تین دن ہوتی ہے جو اس سے زیادہ ہو وہ صدقہ ہوتا ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:) اس روایت میں اس حکم کی علت پوشیدہ ہے اور وہ آدمی کا اضطراری حالت میں مبتلا ہونا اور ان چیزوں کا حاجت مند ہونا ہے تاکہ اس کی جان ضائع نہ ہو اگر آدمی کے پاس قدرت اور گنجائش ہو (تو پھر وہ مالکان کی اجازت۔ کے بغیر ان چیزوں کو حاصل نہیں کر سکتا۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5281]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:) اس روایت میں اس حکم کی علت پوشیدہ ہے اور وہ آدمی کا اضطراری حالت میں مبتلا ہونا اور ان چیزوں کا حاجت مند ہونا ہے تاکہ اس کی جان ضائع نہ ہو اگر آدمی کے پاس قدرت اور گنجائش ہو (تو پھر وہ مالکان کی اجازت۔ کے بغیر ان چیزوں کو حاصل نہیں کر سکتا۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5281]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5281، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7273، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2300، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18758، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11202» «رقم طبعة با وزير 5257»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (8/ 160 - 161)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5281 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري