🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
272. فصل من البر والإحسان - ذكر الزجر عن ترك تعاهد المرء ذوات الأربع بالإحسان إليها
فصل نیکی اور احسان - بیان کہ چارپایوں کے ساتھ احسان نہ کرنے سے منع کیا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 545
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ الأَنْصَارِيَّ ، أَنَّ عُيَيْنَةَ وَالأَقْرَعَ سَأَلا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ: أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا فَفَعَلَ، وَخَتَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ بِدَفْعِهِ إِلَيْهِمَا فَأَمَّا عُيَيْنَةُ، فقَالَ: مَا فِيهِ؟ فقَالَ: فِيهِ مَا أُمِرْتُ بِهِ فَقَبَّلَهُ وَعَقَدَهُ فِي عِمَامَتِهِ، وَأَمَّا الأَقْرَعُ، فقَالَ: أَحْمِلُ صَحِيفَةً لا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ؟ فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَتِهِ فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ، فقَالَ:" أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟" فَابْتُغِيَ فَلَمْ يُوجَدْ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ ارْكَبُوهَا صِحَاحًا، وَكُلُوهَا سِمَانًا، كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا، إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ:" مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ": أَرَادَ بِهِ عَلَى دَائِمِ الأَوْقَاتِ وَفِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْكَبُوهَا صِحَاحًا" كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّاقَةَ الْعَجْفَاءَ الضَّعِيفَةَ يَجِبُ أَنْ يُتَنَكَّبَ رُكُوبُهَا إِلَى أَنْ تَصِحَّ، وَفِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَكُلُوهَا سِمَانًا" دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ النَّاقَةَ الْمَهْزُولَةَ الَّتِي لا نِقْيَ لَهَا يُسْتَحَبُّ تَرْكُ نَحْرِهَا إِلَى أَنْ تَسْمَنَ.
سیدنا سہل بن حنظلیہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عیینہ اور اقرع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان کے لئے وہ چیز لکھ دیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مہر لگا دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ان دونوں کے سپرد کر دیں عیینہ نے دریافت کیا۔ اس میں کیا ہے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔ اس میں وہ کچھ تحریر ہے، جو مجھے حکم دیا گیا تھا۔ عیینہ نے اسے قبول کر لیا اور اسے اپنے عمامے میں باندھ لیا، لیکن اقرع نے کہا: میں ایک ایسا صحیفہ اٹھا کہ لے جاؤں جس کے بارے میں مجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ اس میں کیا تحریر ہے یہ تو دھوکے کے صحیفے کی مانند ہو گا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کے قول کے بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام کے سلسلے میں باہر تشریف لائے آپ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جو مسجد کے دروازے کے پاس بندھا ہوا تھا۔ یہ دن کے ابتدائی حصے کی بات ہے، جب آپ دن کے آخری حصے میں وہاں سے گزرے، تو وہ اونٹ اسی حالت میں موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ اسے تلاش کیا گیا۔ وہ نہیں ملا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان جانوروں کے بارے میںاللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب یہ تندرست ہوں اور انہیں اس وقت کھاؤ جب یہ موٹے تازے ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جو شخص کوئی چیز مانگے اور اس کے پاس وہ چیز موجود ہو، جو اسے بے نیاز کر دے، تو وہ جہنم کے انگارے زیادہ کرتا ہے اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! جو چیز اسے بے نیاز کر دے اس سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا صبح اور شام کا کھانا۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: اس کا صبح اور شام کا کھانا اس سے مراد یہ ہے: ہمیشہ ایسا کرے۔ تم صحیح ہونے کی حالت میں ان پر سواری کرو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بیمار اور کمزور اونٹنی کے حوالے سے یہ بات لازم ہے: جب تک وہ تندرست نہیں ہو جاتی اس پر سواری کرنے سے گریز کیا جائے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: تم انہیں اس وقت کھاؤ جب یہ موٹے تازے ہو جائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے، ایسی کمزور اونٹنی جس کے اندر گودا ہی نہیں ہو، اس کے حوالے سے یہ بات مستحب ہے کہ اس کو اس وقت تک قربان نہ کیا جائے، جب تک وہ موٹی تازی نہیں ہو جاتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 545]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 546»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1441)، «الصحيحة» (23).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري غير صحابيه، فقد روى له أبو داود والنسائي.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن الحنظلية الأنصاريصحابي
👤←👥أبو كبشة السلولي، أبو كبشة
Newأبو كبشة السلولي ← سهل بن الحنظلية الأنصاري
ثقة
👤←👥ربيعة بن يزيد الإيادي، أبو شعيب
Newربيعة بن يزيد الإيادي ← أبو كبشة السلولي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد الأزدي، أبو عتبة
Newعبد الرحمن بن يزيد الأزدي ← ربيعة بن يزيد الإيادي
ثقة
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن يزيد الأزدي
ثقة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة
Newالفضل بن الحباب الجمحي ← علي بن المديني
ثقة ثبت