صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
285. باب الصحبة والمجالسة - ذكر ما يستحب للمرء التبرك بالصالحين وأشباههم
دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے صالحین اور ان جیسوں سے برکت حاصل کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 558
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلا بِالْجِعْرَانَةِ، بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ بِلالٌ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ، فقَالَ: أَلا تُنْجِزُ لِي يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي؟ فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرْ، فقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ: لَقَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنَ الْبُشْرَى، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي مُوسَى، وَبِلالٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ، فقَالَ:" إِنَّ هَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَى، فَاقْبَلا أَنْتُمَا" فَقَالا: قَبْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا:" اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا أَوْ نُحُورِكُمَا" فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلا مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ أَنْ أَفْضِلا لأُمِّكُمَا فِي إِنَائِكُمَا، فَأَفْضَلا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان ”جعرانہ“ کے مقام پر فروکش تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، ایک دیہاتی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ پورا نہیں کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم خوشخبری قبول کرو۔“ دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: آپ پہلے ہی مجھے بہت ساری خوشخبریاں دے چکے ہیں، راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوموسیٰ اشعری اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کی طرف غصے کے عالم میں متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اس شخص نے خوشخبری کو مسترد کر دیا ہے، تو تم دونوں اسے قبول کر لو۔“ ان دونوں صاحبان نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اسے قبول کرتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی موجود تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم دونوں اس میں سے پی لو اور اسے اپنے چہروں اور سینوں کے اوپر بھی انڈیل لو۔“ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے پیالہ لیا اور ویسا ہی کیا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تھی، پردے کے پیچھے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پکار کر کہا: اپنے برتن میں سے اپنی والدہ کے لیے بھی کچھ بچا لینا، تو ان دونوں نے اس میں سے (تھوڑا سا پانی) ان کے لیے بھی بچا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 558]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 196، 4328، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2497، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 558، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7314» «رقم طبعة با وزير 559»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (4328)، م (7/ 169).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو كريب هو محمد بن العلاء، وأبو أسامة هو حماد بن أسامة.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 558 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري