علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
284. باب الصحبة والمجالسة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن خطاب هذا الخبر قصد به التخصيص دون العموم
دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اس خبر کا خطاب خاص لوگوں کے لیے تھا نہ کہ عام کے لیے
حدیث نمبر: 557
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلا يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے، لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہو پاتا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی اس کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 557]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6170، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2641، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 557، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19805» «رقم طبعة با وزير 558»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (200): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله ثقات رجال الشيخين غير مسدد، فمن رجال البخاري.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 557 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن قيس الأشعري