صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
28. ذكر الزجر أن يخلو المرء بامرأة أجنبية وإن لم تكن بمغيبة-
- باب اس زجر کا کہ کوئی مرد کسی غیر عورت کے ساتھ خلوت (اکیلا رہنا) نہ کرے خواہ وہ شوہر والی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5586
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي مِثْلِ مَقَامِي هَذَا، فَقَالَ: " أَحْسِنُوا إِلَى أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ، حَتَّى يَحْلِفَ الرَّجُلُ عَلَى الْيَمِينِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَحْلَفَ عَلَيْهَا، وَيَشْهَدَ عَلَى الشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدَ عَلَيْهَا، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنَالَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ، فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَهُوَ مِنَ الاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، أَلا لا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ، أَلا وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَسُوؤُهُ سَيِّئَتُهُ، وَتَسُرُّهُ حَسَنَتُهُ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جابیہ“ کے مقام پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے یہ بتایا: جس طرح میں (خطبہ دینے کے لئے) کھڑا ہوا ہوں۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھڑے ہوئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: میرے ساتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ بھی اس کے بعد جھوٹ پھیل جائے گا یہاں تک کہ آدمی قسم پر حلف اٹھا لے گا۔ اس سے پہلے کہ اس سے حلف مانگا جائے اور گواہی پیش کر دے گا اس سے پہلے کہ اس سے گواہی طلب کی جائے تم میں سے جو شخص جنت میں داخل ہونا چاہتا ہو وہ (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑ لے کیونکہ شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے وہ دو آدمیوں سے زیادہ دور ہوتا ہے۔ خبردار! کوئی شخص کسی (اجنبی عورت) کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا۔ خبردار! تم میں سے جس شخص کو برائی بری لگے اور اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5586]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5559»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (6003)، «الصحيحة» (430).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
جابر بن سمرة العامري ← عمر بن الخطاب العدوي