صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
26. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن عند وقوع الفتن على المرء محبة غيره ما يحبه لنفسه-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقوع پر انسان کو دوسروں کے لیے وہی پسند کرنا چاہیے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے
حدیث نمبر: 5961
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي مَجْشَرِهِ، وَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ، إِذْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعْنَا، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ: " لَمْ يَكُنْ قَبْلِي نَبِيٌّ إِلا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لَهُمْ، وَإِنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلاءٌ، فَتَجِيءُ فِتْنَةُ الْمُؤْمِنِ، فَيَقُولُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ، وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ"، قَالَ: قُلْتُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ، يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَنُهْرِيقُ دِمَاءَنَا، وَقَالَ اللَّهُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ سورة النساء آية 29، وَقَالَ: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ سورة النساء آية 29 قَالَ: ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کے سائے میں یہ بات بیان کی: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ہم میں سے کچھ لوگ تیراندازی کر رہے تھے کچھ لوگ جانوروں کو چرا رہے تھے اور کچھ لوگ خیمے ٹھیک کر رہے تھے اسی دوران یہ اعلان کیا گیا نماز ہونے لگی ہے ہم لوگ اکٹھے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ سے پہلے جو بھی نبی تھا، تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم تھی کہ وہ نبی اپنی امت کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے جو ان کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور ان لوگوں کو ان چیزوں سے ڈرائے جن کے بارے میں وہ یہ جانتا ہے کہ یہ ان کے حق میں برے ہوں گے جہاں تک اس امت کا تعلق ہے، تو اس کی عافیت اس کے ابتدائی حصے میں ہے اور اس کے آخری حصے میں آزمائشیں ہوں گی مومن کے پاس ایک آزمائش آئے گی، تو وہ یہ کہے گا میں اس میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں گا پھر دوسری آئے گی، تو یہ کہے گا اس میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں پھر وہ بھی ختم ہو جائے گی، تو تم میں سے جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو کہ اسے جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا جائے اس کی موت ایسے عالم میں آنی چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور وہ لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے، جس کے بارے میں وہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جائے جو شخص کسی حکمران کے ہاتھ پر بیعت کر لے اور اپنا ہاتھ اور اپنی ذہنی آمادگی اس کو دیدے، تو اسے جہاں تک ہو سکے، اس حکمران کی فرمانبرداری کرنی چاہئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: یہ آپ کے چچازاد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، تو ہمیں یہ کہتے ہیں: ہم اپنے (یعنی ایک دوسرے کے) اموال ناحق طور پر کھائیں اور خون بہائیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے۔ ”اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر نہ کھاؤ۔“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ ”تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔“
راوی کہتے ہیں: وہ (یعنی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہے پھر انہوں نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے معاملے میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے معاملے میں اس کی بات نہ مانو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5961]
راوی کہتے ہیں: وہ (یعنی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہے پھر انہوں نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے معاملے میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے معاملے میں اس کی بات نہ مانو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5961]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5930»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (241): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن عبد رب الكعبة العائذي ← عبد الله بن عمرو السهمي