صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
2. باب الجنايات - ذكر الإخبار عن تحريم الله جل وعلا دماء المؤمنين-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے مومنوں کے خون کو حرام کیا ہے
حدیث نمبر: 5973
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ أَوْ قَالَ: بِزِمَامِهِ، فَقَالَ: " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامَ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى يُبَلِّغُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ" .
سیدنا ابوبکره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر ٹھہرے ہوئے تھے ایک شخص نے اس اونٹ کی لگام (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) کو پکڑا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کون سا دن ہے۔ ہم لوگ خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کون سا مہینہ ہے ہم لوگ خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کون سا شہر ہے ہم لوگ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے۔ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری جانیں تمہارے مال تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابل احترام ہے خبردار ہر موجود شخص غیر موجود تک اس کی تبلیغ کر دے کیونکہ بعض اوقات موجود شخص ایسے شخص تک اس کی تبلیغ کرے گا، جو اس کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر اس حکم کو محفوظ رکھے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5973]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5942»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3837). تنبيه!! رقم (3837) = (3848) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي