صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
5. ذكر الخبر الدال على صحة تلك العلة التي هي مضمرة في نفس الخطاب-
- ذکر خبر جو اس مضمر علّت کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے
حدیث نمبر: 6089
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ الأَنْبِيَاءُ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ مَعَهُ الرَّجُلُ، وَيَجِيءُ مَعَهُ الرَّجُلانِ، وَيَجِيءُ مَعَهُ النَّفَرُ كَذَلِكَ حَتَّى رَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَقِيلَ: هَؤُلاءِ قَوْمُ مُوسَى، ثُمَّ رَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا قَدْ سَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَقِيلَ: هَؤُلاءِ مِنْ أُمَّتِكَ، فَفَرِحْتُ بِذَلِكَ، وَسُرِرْتُ بِهِ، ثُمَّ قِيلَ: إِنَّهُ يَدْخُلُ بَعْدَ هَؤُلاءِ مِنْ أُمَّتِكَ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا لا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلا عَذَابَ"، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَتَرَاجَعُوا، ثُمَّ أَجْمَعَ رَأْيُهُمْ أَنَّهُمْ مَنْ وُلِدَ فِي الإِسْلامِ وَثَبَتَ فِيهِ، وَلَمْ يُدْرِكْ شَيْئًا مِنَ الشِّرْكِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ:" الَّذِينَ لا يَكْتَوُونَ، وَلا يَسْتَرْقُونَ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ" . قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْعِلَّةُ فِي الزَّجْرِ عَنِ الاكْتِوَاءِ، وَالاسْتِرْقَاءِ هِيَ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا وَيَرَوْنَ الْبُرْءَ مِنْهُمَا مِنْ غَيْرِ صُنْعِ الْبَارِي جَلَّ وَعَلا فِيهِ، فَإِذَا كَانَتْ هَذِهِ الْعِلَّةُ مَوْجُودَةً، كَانَ الزَّجْرُ عَنْهُمَا قَائِمًا، وَإِذَا اسْتَعْمَلَهُمَا الْمَرْءُ وَجَعَلَهُمَا سَبَبَيْنِ لِلْبُرْءِ الَّذِي يَكُونُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ دُونَ أَنْ يَرَى ذَلِكَ مِنْهُمَا كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات میرے سامنے انبیاء کو پیش کیا گیا، تو کسی نبی کے ساتھ ایک شخص تھا کسی نبی کے ساتھ دو شخص تھے کسی نبی کے ساتھ کچھ لوگ تھے، یہاں تک کہ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید یہ میری امت ہے۔ میں نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں، تو بتایا گیا یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے افراد ہیں پھر میں نے بہت زیادہ لوگوں کو دیکھا جنہوں نے آسمان کے افق کو بھر دیا تھا میں نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں، تو بتایا گیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ میں اس بات پر بہت خوش ہوا مسرور ہوا پھر بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ان لوگوں کے بعد ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور انہیں کوئی عذاب نہیں ہو گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر تشریف لے گئے۔ حاضرین نے سوچا یہ کون لوگ ہوں گے وہ آپس میں اس بارے میں بات چیت کرتے رہے پھر ان سب نے اس بارے میں اتفاق کیا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور ہمیشہ مسلمان رہے جنہوں نے شرک کا زمانہ پایا ہی نہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو (علاج میں) داغ نہیں لگواتے ہوں گے، اور (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہوں گے، اور فال نہیں نکالتے ہوں گے، اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) داغ لگوانے اور جھاڑ پھونک کرنے میں ممانعت کی علت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ اس پر عمل کرتے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر وہ لوگ محض ان دو چیزوں سے ٹھیک ہو جاتے ہیں، تو جب یہ علت موجود ہو گی ان دونوں چیزوں سے ممانعت باقی رہی، لیکن جب کوئی شخص ان پر عمل کرے اور ان دونوں کو ایسا سبب قرار دے جو اللہ کے فیصلے کے مطابق آدمی کی تندرستی کے لیے سبب بنتا ہے اور وہ شخص یہ نہ سمجھے محض ان دونوں کاموں کی وجہ سے (فائدہ ہوتا ہے) تو ایسا کرنا جائز ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6089]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) داغ لگوانے اور جھاڑ پھونک کرنے میں ممانعت کی علت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ اس پر عمل کرتے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر وہ لوگ محض ان دو چیزوں سے ٹھیک ہو جاتے ہیں، تو جب یہ علت موجود ہو گی ان دونوں چیزوں سے ممانعت باقی رہی، لیکن جب کوئی شخص ان پر عمل کرے اور ان دونوں کو ایسا سبب قرار دے جو اللہ کے فیصلے کے مطابق آدمی کی تندرستی کے لیے سبب بنتا ہے اور وہ شخص یہ نہ سمجھے محض ان دونوں کاموں کی وجہ سے (فائدہ ہوتا ہے) تو ایسا کرنا جائز ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6089]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6057»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (4613).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
صهيب البكري ← عمران بن حصين الأزدي