صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
5. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عما كان عليه العرش قبل خلق الله جل وعلا السماوات والأرض-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا کے عرش کا حال آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پہلے کیا تھا
حدیث نمبر: 6142
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: إِِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ:" اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ"، قَالُوا: قَدْ بَشَّرْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطِنَا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ:" اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ، إِِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ"، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَا لِنَتَفَقَّهُ فِي الدِّينِ، وَنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ، مَا كَانَ؟ فَقَالَ: " كَانَ اللَّهُ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ" ، قَالَ: ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ بْنَ حُصَيْنٍ، رَاحِلَتَكَ أَدْرِكْهَا، فَقَدْ ذَهَبَتْ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا، فَإِِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! تم لوگ خوشخبری قبول کرو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں پہلے بھی خوشخبری دے چکے ہیں، (اب) آپ ہمیں (مال و دولت) عطا کیجیے۔ پھر یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اہل یمن! تم لوگ خوشخبری حاصل کر لو کیونکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔“ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اسے قبول کرتے ہیں، ہم اس لیے حاضرِ خدمت ہوئے ہیں تاکہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملے کے آغاز کے بارے میں دریافت کریں کہ یہ کیسے تھا (یعنی کائنات کا آغاز کیسے ہوا)؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے اللہ تعالیٰ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، اس کا عرش پانی پر تھا، پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس نے ذکر (یعنی لوح محفوظ) میں ہر چیز تحریر کر دی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے عمران! اپنی سواری کو پکڑیں کیونکہ وہ چلی گئی ہے، تو میں اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا، سراب اس سے پہلے ہی منقطع ہو جاتا تھا۔ اللہ کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ وہ چلی گئی ہوتی لیکن میں وہاں سے نہ اٹھتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6142]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3190، 3191، 4365، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6140، 6142، 7292، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11176، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3951، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17774، 17775، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20136» «رقم طبعة با وزير 6109»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م، مضى قريبا (6107). تنبيه!! رقم (6107) = (6140) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6142 in Urdu
صفوان بن محرز المازني ← عمران بن حصين الأزدي