صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
38. باب بدء الخلق - ذكر خبر قد يوهم من لم يطلب العلم من مظانه أنه مضاد لخبر ابن مسعود الذي ذكرناه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو علم کے اصلی ذرائع سے نہ مانگنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ابن مسعود کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6177
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: حُذَيْفَةُ بْنُ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيُّ ، فَحَدَّثَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً، بَعَثَ اللَّهُ إِِلَيْهَا مَلَكًا فَصَوَّرَهَا، وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعِظَامَهَا، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، ذَكَرٌ أَمْ أُثْنَى؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ وَيُكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، أَجَلُهُ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ وَيَكْتُبُهُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، رِزْقُهُ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ، فَيَأْخُذُ الْمَلَكُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ، فَلا يُزَادُ فِي أَمْرٍ وَلا يُنْقَصُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلَقَ سَمْعَهَا"، مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ لا أَنَّ الْمَلَكَ يَخْلُقُ.
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بدبخت شخص وہ ہوتا ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو، نیک بخت وہ ہوتا ہے جسے دوسرے کے ذریعے نصیحت کی جا سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب تشریف لائے ان کا نام سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ تھا، انہیں یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر بتائی گئی، تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”جب نطفے کو بیالیس (42) دن گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس کی شکل و صورت متعین کرتا ہے اس کی سماعت و بصارت، اس کی کھال، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے پھر وہ دریافت کرتا ہے اے پروردگار! کیا یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی ہو گی، تو تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتا ہے وہ فیصلہ سنا دیتا ہے، فرشتہ اسے نوٹ کر لیتا ہے پھر وہ دریافت کرتا ہے پروردگار اس کی موت کا وقت کیا ہو گا، تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتا ہے وہ فیصلہ سنا دیتا ہے فرشتہ اسے نوٹ کر لیتا ہے پھر وہ عرض کرتا ہے پروردگار اس کا رزق کتنا ہو گا، تو تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتا ہے وہ فیصلہ بتا دیتا ہے، تو فرشتہ وہ صحیفہ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اب اس معاملے میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں ہو سکتی۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس نے اس کی سماعت کو پیدا کیا“ یہ الفاظ لوگوں کے محاور ے کے اعتبار سے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرشتہ اس چیز کو پیدا کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6177]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس نے اس کی سماعت کو پیدا کیا“ یہ الفاظ لوگوں کے محاور ے کے اعتبار سے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرشتہ اس چیز کو پیدا کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6177]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6144»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (177).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عامر بن واثلة الليثي ← حذيفة بن أسيد الغفاري