صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
108. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن السبب الذي من أجله سفكت بنو إسرائيل دماءهم وقطعوا أرحامهم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ وجہ کیا تھی جس کی بنا پر بنی اسرائیل نے اپنے خون بہائے اور رشتوں کو توڑا
حدیث نمبر: 6248
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِِنَّ الظُّلْمَ هُوَ الظُّلُمَاتُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ، وَإِِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِِنَّ الشُّحَّ قَدْ دَعَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے: ”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قیامت کے دن تاریکیوں کی شکل میں ہو گا اور بدزبانی سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گفتگو کرنے والے کو پسند نہیں کرتا اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا انہوں نے ایک دوسرے کا خون بہایا اور رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا اور حرام قرار دی گئی چیزوں کو حلال قرار دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6248]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6215»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 144).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي