صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
255. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم مع الأنبياء بالقصر المبني-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کے ساتھ اپنی مثال بنے ہوئے محل سے دی
حدیث نمبر: 6406
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الأَنْبِيَاءُ أَوْلادُ عَلاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ" . قَالَ: فَكَانَ قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهُ، وَتُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لَبِنَةٍ فَطَافَ بِهِ نُظَّارٌ، فَتَعَجَّبُوا مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهِ إِِلا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ، لا يَعِيبُونَ غَيْرَهَا، فَكُنْتُ أَنَا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ، خُتِمَ بِيَ الرُّسُلُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ ابن مریم کے قریب ہوں۔ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں، لیکن میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے۔“
راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے تھے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میری اور دیگر انبیاء کی مثال ایک ایسے محل کی مانند ہے جس کی تعمیر عمدہ کی گئی ہو لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو، دیکھنے والے لوگ اس کا چکر لگائیں اور اس کی عمدہ تعمیر پر حیران ہوں، لیکن اس ایک اینٹ کی جگہ خالی رہنے پر (حیران ہوتے ہوں) وہ اس کے علاوہ اس عمارت میں کوئی اور عیب نہ نکال سکیں، تو میں اس ایک اینٹ کی جگہ ہوں، میرے ذریعے رسولوں (کی بعثت) کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6406]
راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے تھے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میری اور دیگر انبیاء کی مثال ایک ایسے محل کی مانند ہے جس کی تعمیر عمدہ کی گئی ہو لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو، دیکھنے والے لوگ اس کا چکر لگائیں اور اس کی عمدہ تعمیر پر حیران ہوں، لیکن اس ایک اینٹ کی جگہ خالی رہنے پر (حیران ہوتے ہوں) وہ اس کے علاوہ اس عمارت میں کوئی اور عیب نہ نکال سکیں، تو میں اس ایک اینٹ کی جگہ ہوں، میرے ذریعے رسولوں (کی بعثت) کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6406]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6372»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مختصر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
أبو هريرة الدوسي ← أبو هريرة الدوسي