صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
299. باب الحوض والشفاعة - ذكر خبر رابع قد يوهم بعض المستمعين أنه مضاد للأخبار الثلاث التي ذكرناها قبل-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر چوتھی خبر جو بعض سننے والوں کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے تین خبروں کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6451
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ، وَصَنْعَاءَ، أَوْ كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ الأَخْبَارُ الأَرْبَعُ قَدْ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمُ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّهَا مُتَضَادَّةٌ، أَوْ بَيْنَهَا تَهَاتِرُ، لأَنَّ فِي خَبَرِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ:" مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ"، وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ:" مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِِلَى مَكَّةَ"، وَفِي خَبَرِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:" مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِِلَى بُصْرَى"، وَفِي خَبَرِ قَتَادَةَ:" مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ"، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ تَضَادٌّ، وَلا تَهَاتِرٌ، لأَنَّهَا أَجْوِبَةٌ خَرَجَتْ عَلَى أَسْئِلَةٍ ذَكَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي كُلِّ خَبَرٍ مِمَّا ذَكَرْنَا جَانِبًا مِنْ جَوَانِبِ حَوْضِهِ أَنَّ مَسِيرَةَ كُلَّ جَانِبٍ مِنْ حَوْضِهِ مَسِيرَةُ شَهْرٍ، فَمِنْ صَنْعَاءَ إِِلَى الْمَدِينَةِ مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِغَيْرِ الْمُسْرِعِ، وَمِنْ أَيْلَةَ إِِلَى مَكَّةَ كَذَلِكَ، وَمِنْ صَنْعَاءَ إِِلَى بُصْرَى كَذَلِكَ، وَمِنَ الْمَدِينَةِ إِِلَى عَمَّانَ الشَّامِ كَذَلِكَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے۔ جتنا مدینہ اور صنعاء کے درمیان ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ چار روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا (اور وہ یہ سمجھتا ہے) کہ ان میں تضاد پایا جاتا ہے یا ان میں اختلاف پایا جاتا ہے، تو سلیمان تیمی کی نقل کردہ روایات میں یہ الفاظ ہیں۔ جتنا صنعاء اور مدینہ کے درمیان فاصلہ ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ جتنا ایلہ سے لے کر مکہ کے درمیان تک فاصلہ ہے۔ عتبہ بن عبد کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ جتنا صنعاء اور بصری کے درمیان فاصلہ ہے۔ قتادہ کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ جتنا مدینہ اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ حالانکہ ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ یہ سوالات کے جوابات ہیں، جو سوالات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیے ہیں۔ ہم نے جو روایات ذکر کی ہیں۔ ان سب روایات میں حوض کوثر کے کناروں میں سے کسی ایک کنارے کا ذکر ہے کہ اس حوض کے ہر طرف کا کنارہ ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے، تو صنعاء سے لے کر مدینہ منورہ تک ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے۔ جبکہ آدمی تیز رفتاری سے نہ چل رہا ہو۔ ایلہ سے لے کر مکہ تک کا سفر بھی اتنا ہے۔ صنعاء سے لے کر بصریٰ تک کا سفر بھی اتنا ہی ہے۔ اور مدینہ سے لے کر عمان یا شام تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6451]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ چار روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا (اور وہ یہ سمجھتا ہے) کہ ان میں تضاد پایا جاتا ہے یا ان میں اختلاف پایا جاتا ہے، تو سلیمان تیمی کی نقل کردہ روایات میں یہ الفاظ ہیں۔ جتنا صنعاء اور مدینہ کے درمیان فاصلہ ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ جتنا ایلہ سے لے کر مکہ کے درمیان تک فاصلہ ہے۔ عتبہ بن عبد کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ جتنا صنعاء اور بصری کے درمیان فاصلہ ہے۔ قتادہ کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ جتنا مدینہ اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ حالانکہ ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ یہ سوالات کے جوابات ہیں، جو سوالات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیے ہیں۔ ہم نے جو روایات ذکر کی ہیں۔ ان سب روایات میں حوض کوثر کے کناروں میں سے کسی ایک کنارے کا ذکر ہے کہ اس حوض کے ہر طرف کا کنارہ ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے، تو صنعاء سے لے کر مدینہ منورہ تک ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے۔ جبکہ آدمی تیز رفتاری سے نہ چل رہا ہو۔ ایلہ سے لے کر مکہ تک کا سفر بھی اتنا ہے۔ صنعاء سے لے کر بصریٰ تک کا سفر بھی اتنا ہی ہے۔ اور مدینہ سے لے کر عمان یا شام تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6451]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6417»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (714).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ | |
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة الفضل بن الحباب الجمحي ← مسدد بن مسرهد الأسدي | ثقة ثبت |
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري