صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
365. باب المعجزات - ذكر ما استجاب الله جل وعلا لصفيه صلى الله عليه وسلم في راحلة جابر بن عبد الله-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جابر بن عبد اللہ کی سواری کے لیے دعا قبول کی
حدیث نمبر: 6517
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَعْيَا جَمَلِي، فَتَخَلَّفْتُ عَلَيْهِ أَسُوقُهُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ مُتَخَلِّفًا، فَلَحِقَنِي، فَقَالَ لِي: " مَا لَكَ مُتَخَلِّفًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: لا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِلا أَنَّ جَمَلِيَ ظَالِعٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْحَقَهُ بِالْقَوْمِ، قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنَبِهِ، فَضَرَبَهُ، ثُمَّ زَجَرَهُ، فَقَالَ:" ارْكَبْ"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي بَعْدُ وَإِِنِّي لأَكُفُّهُ عَنِ الْقَوْمِ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلا دُونَ الْمَدِينَةِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَعَجَّلَ إِِلَى أَهْلِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَأْتِ أَهْلكَ طَرُوقًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: فَمَا تَزَوَّجْتَ؟ قُلْتُ: امْرَأَةً ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلا بِكْرًا تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ عَبْدَ اللَّهِ تُوُفِّيَ أَوِ اسْتُشْهِدَ، وَتَرَكَ جَوَارِيَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ عَلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ: أَحْسَنْتَ وَلا أَسَأْتَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: لا، بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لا، بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لا، بَلْ بِعْنِيهِ، قُلْتُ: أَجَلْ عَلَى أُوقِيَّةِ ذَهَبٍ، فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلالٍ: أَعْطِهِ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ، وَزِدْهُ، قَالَ: فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ، وَزَادَنِي قِيرَاطًا ، قَالَ: فَقُلْتُ: لا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي، فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہے تھے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا اونٹ تھک چکا تھا اور میں اسے پیچھے لیے ہوئے چل رہا تھا، راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں پیچھے رہ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آ کر ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا وجہ ہے، تم پیچھے کیوں چل رہے ہو؟“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا اونٹ تھک گیا ہے، ورنہ میرا تو ارادہ ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ چلوں، راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے والے حصے پر مارا اور اسے ڈانٹا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سوار ہو جاؤ۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے خود کو دیکھا کہ میں اسے روک روک کر لوگوں کے ساتھ چل رہا تھا (یعنی وہ لوگوں سے آگے نکلا جا رہا تھا)، راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، میں نے اپنے گھر جلدی جانے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس نہ جاؤ۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے کس کے ساتھ شادی کی ہے؟“ میں نے عرض کی: ایک ثیبہ عورت کے ساتھ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کنواری کے ساتھ کیوں نہیں کی تاکہ تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی؟“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میرے والد) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) یا وہ شہید ہو گئے، انہوں نے کچھ بیٹیاں (پسماندگان میں) چھوڑی تھیں تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں شادی کر کے ان کے پاس ایسی لڑکی لے آؤں جو انہی کی مانند ہو، راوی کہتے ہیں کہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے اچھا کیا یا تم نے برا کیا، راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ویسے ہی آپ کا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، بلکہ تم اسے مجھے فروخت کرو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، بلکہ تم اسے مجھے فروخت کرو۔“ میں نے عرض کی: ٹھیک ہے، سونے کے ایک اوقیہ کے عوض میں (میں آپ کو فروخت کرتا ہوں) یہ آپ کا ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ لے لیا، تم اس پر سوار ہو کر مدینہ جا سکتے ہو۔“ جب میں مدینہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اسے سونے کا ایک اوقیہ دے دو اور (ایک اوقیہ سے) زیادہ دینا۔“ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے سونے کا ایک اوقیہ اور ایک قیراط دیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ طے کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی یہ اضافی ادائیگی مجھ سے کبھی جدا نہیں ہو گی، راوی کہتے ہیں کہ وہ میرے پاس ایک تھیلی میں موجود رہی، یہاں تک کہ واقعہ حرہ کے موقع پر اہل شام نے اسے چھین لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6517]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 443، 1801، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 715، وابن الجارود فى "المنتقى"، 642، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2496، 2713، 2714، 2715، 2717، 4182، 4911، 6517، 6518، 6519، 7138، 7140، 7141، 7143، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3219، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2048، 2776، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1100،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1860، 2205، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 510،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14348» «رقم طبعة با وزير 6483»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (4/ 176 - 177).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6517 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري