🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
366. باب المعجزات - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم رد الراحلة على جابر بن عبد الله بعد أن أوفاه ثمنها هبة له-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبد اللہ کو اس کی سواری واپس کی جب اس کی قیمت ادا کر دی اور اسے ہبہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6518
أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ الْبَزَّارُ بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي، فَتَخَلَّفْتُ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ، ثُمَّ قَالَ لِي:" ارْكَبْ"، فَرَكِبْتُهُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَزَوَّجْتَ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟"، فَقُلْتُ: بَلْ، ثَيِّبًا، قَالَ: قَالَ: " فَهَلا جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ"، فَقُلْتُ: إِِنَّ لِي أَخَوَاتٍ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ:" أَمَا إِِنَّكَ قَادِمٌ، فَإِِذَا قَدِمْتَ، فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ". ثُمَّ قَالَ:" أَتَبِيعُ جَمَلَكَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ:" الآنَ حِينَ قَدِمْتَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَدَعْ جَمَلَكَ، وَادْخُلْ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، وَأَمَرَ بِلالا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً، قَالَ: فَوَزَنَ لِي بِلالٌ، فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ، قَالَ:" ادْعُ لِي جَابِرًا"، فَدُعِيتُ، فَقُلْتُ: الآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِِلَيَّ مِنْهُ، قَالَ:" جَمَلُكَ وَثَمَنُهُ لَكَ" .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں شرکت کے لئے روانہ ہوا۔ میرا اونٹ سست ہو گیا تھا۔ اس لئے میں لوگوں سے پیچھے رہ گیا (راستے میں کسی جگہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے نیچے اترے آپ نے اپنی چھڑی کے ذریعے میرے اونٹ کو مارا اور پھر مجھ سے فرمایا تم اس پر سوار ہو جاؤ، جب میں اس پر سوار ہوا تو میں نے خود کو دیکھا، میں اس اونٹ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکلنے سے روک رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے شادی کر لی ہے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ، میں نے عرض کی: بلکہ ثیبہ کے ساتھ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کسی کنواری کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی کہ تم اس سے خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی۔ میں نے عرض کی: میری بہنیں ہیں۔ مجھے یہ اچھا لگا کہ میں کسی ایسی عورت کے ساتھ شادی کروں جو ان کا خیال رکھے۔ ان کی کنگھی کرے ان کی نگرانی کرے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم (اپنے گھر) جانے لگے ہو۔ جب تم جاؤ تو عقل مندی کا مظاہرہ کرنا، عقلمندی کا مظاہرہ کرنا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنا اونٹ فروخت کرو گے، میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ کے عوض میں وہ مجھ سے خرید لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے (مدینہ منورہ) تشریف لے آئے۔ میں اگلے دن آیا، میں مسجد میں آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم اب آئے ہو۔ میں نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اونٹ کو چھوڑو اور (مسجد کے اندر) جا کر دو رکعات ادا کرو۔ راوی کہتے ہیں: میں اندر آیا، میں نے نماز ادا کی، جب میں واپس آیا تو آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ مجھے وزن کر کے ایک اوقیہ دیدیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے وزن کر کے دیا اور میزان میں (میرے پلڑے کو) وزنی رکھا۔ راوی کہتے ہیں: جب میں وہاں سے روانہ ہوا اور مڑ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر کو میرے پاس بلا کر لاؤ، مجھے بلایا گیا تو میں نے اندازہ لگا لیا کہ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ اونٹ مجھے واپس کر دیں گے، مجھے یہ بات سب سے زیادہ ناپسند تھی لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ بھی تمہارا ہوا اور قیمت بھی تمہاری ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6518]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6484»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - مضى طرفه الأول (2706). تنبيه!! رقم (2706) = (2717) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥وهب بن كيسان القرشي، أبو نعيم
Newوهب بن كيسان القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← وهب بن كيسان القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة ثبت