صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
367. باب المعجزات - ذكر البيان بأن جابر بن عبد الله استثنى حملان راحلته التي وصفناها إلى المدينة بعد البيع-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ جابر بن عبد اللہ نے ہمارے بیان کردہ سواری کی فروخت کے بعد مدینہ تک اس کے حمل کو استثناء کیا
حدیث نمبر: 6519
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَى، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ، قَالَ: فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا لَهُ وَضَرَبَهُ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ، وَقَالَ:" بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ"، فَقُلْتُ: لا، ثُمَّ قَالَ:" بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ"، فَقُلْتُ: لا، ثُمَّ قَالَ:" بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ"، فَبِعْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ، وَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلانَهُ إِِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لآخُذَ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ؟ فَهُمَا لَكَ" .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ اپنے اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا۔ انہوں نے اس اونٹ کو ویسے ہی چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کے لئے دعا کی۔ آپ نے اسے مارا تو وہ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ وہ پہلے کبھی اتنا تیز نہیں چلتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھے فروخت کر دو۔ میں نے عرض کی: جی نہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھے فروخت کر دو، میں نے عرض کی: جی نہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھے فروخت کر دو، تو میں نے ایک اوقیہ کے عوض میں اسے فروخت کر دیا۔ میں نے اس سودے میں یہ استثناء کیا کہ میں اس پر سوار ہو کر اپنے گھر تک جاؤں گا، جب میں (مدینہ منورہ) پہنچا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم یہ سمجھ رہے تھے کہ میں نے تمہارے اونٹ اور درہموں کی وجہ سے تمہارے ساتھ یہ سودا کیا۔ یہ دونوں تمہارے ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6519]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6485»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عامر الشعبي ← جابر بن عبد الله الأنصاري