صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
378. باب المعجزات - ذكر خبر ثان يصرح بنحو ما ذكرناه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر دوسری خبر جو ہمارے بیان کردہ کی طرح واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 6530
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، شَكَّ الأَعْمَشُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَوْ أَذِنْتَ لَنَا، فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَأَكَلْنَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْعَلُوا"، فَجَاءَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّهُمْ إِِنْ فَعَلُوا، قَلَّ الظُّهْرُ، وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوِدَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَطْعٍ، فَبَسَطْتُهُ، ثُمَّ دَعَاهُمْ بِفَضْلِ أَزْوِدَتِهِمْ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ الذُّرَةِ، وَالآخَرُ بِكَفِّ التَّمْرِ، وَالآخَرُ بِكَسْرَةٍ، حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النَّطْعِ مِنْ ذَلِكَ يَسِيرٌ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ:" خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ"، فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِِلا مَلَئُوهُ، وَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ مِنْهُ فَضْلَةً، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍ، فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ (اعمش نامی راوی کو شک ہے شاید) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر لوگوں کو بھوک لاحق ہو گئی تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے اونٹ قربان کر کے انہیں کھا لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم لوگ ایسا کر لو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر لوگوں نے ایسا کر لیا تو ان کے پاس سواری کے جانور کم ہو جائیں گے۔ آپ انہیں کہیں کہ وہ اضافی بچ جانے والا ساز و سامان لے کر آئیں اور پھر آپ اس سامان پر برکت کی دعا کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ اس میں کوئی بہتری کی صورت پیدا کر دے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دسترخوان منگوایا وہ پھیلا دیا گیا۔
(راوی کہتے ہیں:) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بچ جانے والا (کھانے پینے کا) سامان لانے کے لئے کہا:۔ راوی کہتے ہیں: تو کوئی شخص مٹھی بھر جو لے آیا۔ دوسرا شخص مٹھی بھر کھجوریں لے آیا۔ کوئی اور روٹی کا ٹکڑا لے آیا۔ یہاں تک کہ دسترخوان پر تھوڑا سا سامان اکٹھا ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنے برتنوں میں ڈالنا شروع کرو۔ لوگوں نے اپنے برتنوں میں ڈالنا شروع کیا، یہاں تک کہ انہوں نے لشکر میں موجود ہر برتن کو بھر لیا۔ انہوں نے کھایا اور سیر ہو کر کھایا پھر بھی باقی رہ گیا۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں جو شخص ان دونوں باتوں کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ اس میں شک نہ کرتا ہو وہ جنت میں جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6530]
(راوی کہتے ہیں:) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بچ جانے والا (کھانے پینے کا) سامان لانے کے لئے کہا:۔ راوی کہتے ہیں: تو کوئی شخص مٹھی بھر جو لے آیا۔ دوسرا شخص مٹھی بھر کھجوریں لے آیا۔ کوئی اور روٹی کا ٹکڑا لے آیا۔ یہاں تک کہ دسترخوان پر تھوڑا سا سامان اکٹھا ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنے برتنوں میں ڈالنا شروع کرو۔ لوگوں نے اپنے برتنوں میں ڈالنا شروع کیا، یہاں تک کہ انہوں نے لشکر میں موجود ہر برتن کو بھر لیا۔ انہوں نے کھایا اور سیر ہو کر کھایا پھر بھی باقی رہ گیا۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں جو شخص ان دونوں باتوں کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ اس میں شک نہ کرتا ہو وہ جنت میں جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6530]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6496»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3221): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
أبو سعيد الخدري ← أبو هريرة الدوسي