صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
379. باب المعجزات - ذكر ما بارك الله ما فضل من أزواد أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے زاد راہ میں جو بچا اس میں برکت دی
حدیث نمبر: 6531
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانَ حِينَ صَالَحَ قُرَيْشًا، بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقُولُ: إِِنَّمَا يُبَايِعُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْفًا وَهَزْلا، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْ نَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لُحُومِهَا وَشُحُومِهَا، وَحَسَوْنَا مِنَ الْمَرَقِ، أَصْبَحْنَا غَدًا إِِذَا غَدَوْنَا عَلَيْهِمْ وَبِنَا جَمَامٌ، قَالَ: " لا، وَلَكِنْ إِِيتُونِي بِمَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِكُمْ"، فَبَسَطُوا أَنْطَاعًا، ثُمَّ صَبُّوا عَلَيْهَا مَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ، فَدَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ، فَأَكَلُوا حَتَّى تَضَلَّعُوا شِبَعًا، ثُمَّ كَفَؤُوا مَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ فِي جُرُبِهِمْ، ثُمَّ غَدَوْا عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَرَيْنَ القَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً"، فَاضْطَبَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَرَمَلُوا ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَوْا أَرْبَعًا، وَالْمُشْرِكُونَ فِي الْحِجْرِ، وَعِنْدَ دَارِ النَّدْوَةِ، وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا تَغِيَّبُوا مِنْهُمْ بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيِّ وَالأَسْوَدِ، مَشَوْا، ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ، فَتَقُولُ قُرَيْشٌ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّهُمُ الْغِزْلانُ، فَكَانَتْ سُنَّةً .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے صلح کر لی (اور آپ عمرہ کرنے کے لئے مکہ کی طرف روانہ ہوئے) تو جب آپ مرا الظہران کے مقام پر پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ اطلاع ملی کہ قریش یہ کہتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ان کے ایسے اصحاب نے بیعت کی ہے جو کمزور ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی: اے اللہ کے نبی اگر ہم اپنی سواریوں کو قربان کر کے ان کا گوشت اور چربی کھائیں اور ان کا شوربا پئیں تو کل جب ہم ان کے سامنے جائیں گے، تو ہماری حالت ایسی ہو گی کہ ہم طاقتور محسوس ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں تم لوگ میرے پاس اپنا بچ جانے والا (کھانے پینے کا) سامان لے کر آؤ، ان لوگوں نے دسترخوان بچھا دیئے اور اس پر اپنا بچ جانے والا (کھانے پینے کا) سامان ڈال دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے برکت کی دعا کی۔ ان لوگوں نے اسے کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور بچ جانے والا کھانے پینے کا سامان انہوں نے اپنے تھیلوں میں ڈال لیا پھر وہ اگلے دن (کفار قریش) کے سامنے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرما دیا، وہ لوگ (تمہارے اندر) کوئی کمزوری نہ دیکھیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے اضطباع (کے طور پر احرام کی چادر کو) لپیٹا ان حضرات نے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے، مشرکین اس وقت حطیم میں اور دارالندوہ کے قریب موجود تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ان کے دوسری طرف رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان آتے تو عام رفتار سے چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے (تو دوڑنے لگتے) تو قریش نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو ہرنوں کی طرح ہیں۔
(سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:) تو یہ طریقہ سنت قرار پایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6531]
(سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:) تو یہ طریقہ سنت قرار پایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6531]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6497»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1650).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح رجاله رجال الصحيح
الرواة الحديث:
عامر بن واثلة الليثي ← عبد الله بن العباس القرشي