🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
505. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر وصف عزة الإسلام التي ذكرناها في أيام الاثني عشر-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وصف کہ ہمارے ذکر کردہ بارہ کے ایام میں اسلام کی عزت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6663
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا، يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ عَلَيْهِ إِِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً"، قَالَ: ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَصْمَتَنِيهَا النَّاسُ، فَقُلْتُ لأَبِي: مَا، قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: 35 سال تک اسلام کی چکی گھومتی رہے گی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) 36 سال تک، اگر وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے تو اس طریقے کے مطابق ہوں گے جس طریقے سے ہلاکت کا شکار ہوئے اور اگر وہ باقی رہ گئے تو ان کا دین ستر سال تک ان کے لئے باقی رہے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس کی وجہ سے اہل بدعت ہمارے آئمہ پر تنقید کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ محدثین حشویہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایسی چیز کو روایت کرتے ہیں جو غور و فکر اور محسوسات کے حوالے سے غلط ہوتی ہے اور محدثین اسے صحیح بھی قرار دیدیتے ہیں پھر ان سے اگر اس چیز کی صفت کے بارے میں دریافت کیا جائے تو آگے سے کہہ دیتے ہیں: ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ہم اس کی وضاحت نہیں کرتے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے تحت ہم ایسے نہیں ہیں اور ویسے بھی نہیں ہیں، جس طرح کا ہم پر الزام عائد کیا گیا ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو جن بھی امور کے بارے میں مخاطب کیا ہے ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی سمجھ نہ آ سکے اور آپ کی سنتوں میں کوئی ایسی سنت نہیں ہے جس کے مفہوم کا علم نہ ہو سکے جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ جب سنت مستند طور پر منقول ہو تو یہ بات لازم ہے کہ اسے روایت کر دیا جائے اور اس پر ایمان رکھا جائے۔ باوجودیکہ اس کی وضاحت نہ کی جائے یا اس کے مفہوم کی سمجھ نہ آئے تو ایسا شخص رسالت میں نکتہ چینی کرتا ہے۔ اے اللہ (تیری ہی مدد حاصل کی جا سکتی ہے) ویسے احادیث میں کچھ روایات وہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے جن کی کیفیت کو بیان نہیں کیا جا سکتا لیکن لوگوں پر ان صفات پر ایمان رکھنا لازم ہے۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے جیسا کہ ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی چیز کے کسی ایک جزء کے لئے اس مکمل چیز کا نام استعمال کر لیتے ہیں۔ اس طرح عرب اپنے محاور ے میں اختتام کا لفظ آغاز کے لئے استعمال کر لیتے ہیں۔ آغاز کا لفظ اختتام کے لئے استعمال کر لیتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اسلام کی چکی 35 برس تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ میں) 36 برس تک گھومتی رہے گی۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے کہ حکومت بنو ہاشم سے بنوامیہ کی طرف منتقل ہو جائے گی کیونکہ 36 ہجری کے آخر میں حکومت ان دونوں کی طرف چلی گئی تھی تو جب بنو ہاشم کے لئے یہ معاملہ خراب ہوا اور حکومت کے بارے میں بنوامیہ ان کے حصہ دار بن گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکومت کے اختتام کے لئے آغاز کا لفظ استعمال کیا۔ اسی طرح ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں کہ اس طرح ان میں سے ہر ایک خلیفہ بنا، یہاں تک کہ ایک سو ایک ہجری میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے یزید بن عبدالملک کی بیعت کر لی۔ یزید بن عبدالملک کا انتقال شام کی سرزمین بلقاء کے مقام پر جمعہ کے دن ہوا جو 25 شعبان ایک سو پانچ ہجری کی بات ہے تو لوگوں نے ہشام بن عبدالملک کے ہاتھ پر بیعت کر لی جو اس کا بھائی تھا یہ اسی دن ہوا پھر ہشام نے خالد بن عبداللہ قسری کو عراق کا امیر مقرر کیا۔ اس نے عمر بن ہبیرہ کو ایک سو چھ ہجری کے آغاز میں معزول کر دیا تو خراسان میں بنو عباس کے داعی نمودار ہوئے۔ انہوں نے سلیمان بن کثیر خزاعی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جو بنو ہاشم کی طرف دعوت دینے والا تھا۔ اس نے ایک سو چھ ہجری میں مکہ کی طرف خروج کیا تو لوگوں نے بنو ہاشم کے لئے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اس طرح بنوامیہ کی حکومت خرابی کا شکار ہو گئی اور بنو ہاشم پھر اس میں ان کے حصے دار بن گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حکومت کے اختتام کے لئے لفظ آغاز استعمال کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اگر وہ باقی رہے تو ان کا دین ستر سال تک ان کے لئے باقی رہے گا۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ تھی کہ جس صورت حال پر وہ اس سے پہلے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6663]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6628»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← جابر بن سمرة العامري
ثقة
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← عامر الشعبي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← عبد الله بن عون المزني
ثقة ثبت
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة ثبت
👤←👥بكر بن أحمد الطاحي، أبو سعيد
Newبكر بن أحمد الطاحي ← نصر بن علي الأزدي
ثقة