صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
632. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن الموضع الذي يخرج من ناحيته الدجال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دجال جس جگہ سے نکلے گا
حدیث نمبر: 6792
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ بِلالِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أبيه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَشَارَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ: وَأَشَارَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، أَرَادَ بِهِ الْبَحْرَيْنِ، لأَنَّ الْبَحْرَيْنِ مَشْرِقُ الْمَدِينَةِ، وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ يَكُونُ مِنْ جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِهَا، لا مِنْ خُرَاسَانَ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا أَنَّهُ مُوثَقٌ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، عَلَى مَا أَخْبَرَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، وَلَيْسَ بِخُرَاسَانَ بَحْرٌ وَلا جَزِيرَةٌ.
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مدینہ منورہ کی کسی گلی میں ابن صائد کو دیکھا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے برا کہا: اور اسے ڈانٹنے لگے تو وہ اتنا پھول گیا کہ اس نے راستہ بند کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے عصاء کے ذریعے مارا تو اسے سکون آیا، یہاں تک کہ وہ واپس اپنی اصل حالت میں آ گیا پھر وہ پھول گیا، یہاں تک کہ اس نے راستہ بند کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے پاس موجود عصا پھر اسے مارا، یہاں تک کہ اس پر اسے توڑ دیا تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: تمہارا اور اس کا کیا واسطہ ہے یہ تمہیں کیوں غصہ دلا دیتا ہے کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا۔ ”دجال اس غضب کی وجہ سے باہر آئے گا، جو اسے لاحق ہو گا۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے مارنے کو دیکھنا اس صورت میں تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی عصاء کے ذریعے ماریں گے یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں پیش آیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6792]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے مارنے کو دیکھنا اس صورت میں تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی عصاء کے ذریعے ماریں گے یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں پیش آیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6792]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6754»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «المشكاة» (5480): م نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
بلال بن أبي هريرة الدوسي ← أبو هريرة الدوسي