علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
631. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن هذا العدد المذكور للأشياء المتوقعة قبل خروج المسيح ليس بعدد لم يرد به النفي عما وراءه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ مسیح کے خروج سے پہلے متوقع چیزوں کی تعداد اس سے آگے کی نفی کے لیے نہیں ہے
حدیث نمبر: 6791
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُرَاتُ الْقَزَّازُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا، إِِذَا أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَاذَا تَتَذَاكَرُونَ؟ قُلْنَا: نَذَكْرُ السَّاعَةَ، قَالَ:" فَإِِنَّهَا لا تَكُونُ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْهَا عَشَرُ آيَاتٍ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَالدُّخَانُ، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَالدَّابَّةُ، وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ مَوْضِعِ كَذَا ، قَالَ: أَحْسَبُهُ، قَالَ: تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَنْزِلُ مَعَهُمْ حَيْثُ يَنْزِلُونَ"، قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ ، مِثْلَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دجال اس طرف سے نکلے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے (یہ بات ارشاد فرمائی)“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا“ اس کے ذریعے مراد بحرین ہے، کیونکہ بحرین مدینہ منورہ کے مشرق میں ہے اور دجال کا ظہور بھی انہی علاقوں میں سے ہو گا خراسان سے نہیں ہو گا اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے: دجال سمندر کے کسی جزیرے میں بندھا ہوا ہے جیسا کہ تمیم داری نے اس بارے میں اطلاع دی ہے جبکہ خراسان میں نہ تو کوئی سمندر ہے نہ ہی کوئی جزیرہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6791]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا“ اس کے ذریعے مراد بحرین ہے، کیونکہ بحرین مدینہ منورہ کے مشرق میں ہے اور دجال کا ظہور بھی انہی علاقوں میں سے ہو گا خراسان سے نہیں ہو گا اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے: دجال سمندر کے کسی جزیرے میں بندھا ہوا ہے جیسا کہ تمیم داری نے اس بارے میں اطلاع دی ہے جبکہ خراسان میں نہ تو کوئی سمندر ہے نہ ہی کوئی جزیرہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6791]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2901، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6791، 6843، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11316، 11418، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4311، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2183، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4041، 4055، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16391، والحميدي فى (مسنده) برقم: 849، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 3861» «رقم طبعة با وزير 6753»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «شرح الطحاوية» (500/ 759): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6791 in Urdu
عامر بن واثلة الليثي ← حذيفة بن أسيد الغفاري