صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
345. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر أبي قحافة عثمان بن عامر رضي الله عنه-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر ابو قحافہ عثمان بن عامر رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7208
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ: أَيْ بُنَيَّةُ أَظْهِرِينِي عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ، قَالَتْ: وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ، قَالَ: يَا بُنَيَّةُ، مَاذَا تَرَيْنَ؟ قَالَتْ: أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا، قَالَ: تِلْكَ الْخَيْلُ، قَالَتْ: وَأَرَى رَجُلا يَسْعَى بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلا وَمُدْبِرًا، قَالَ: ذَاكَ يَا بُنَيَّةُ الْوَازِعُ الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ، وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: قَدْ وَاللَّهِ انْتَشَرَ السَّوَادُ، فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ دُفِعَتِ الْخَيْلُ، فَأَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي، فَانْحَطَّتْ بِهِ، فَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى بَيْتِهِ، وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ، فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ، فَاقْتَلَعَهُ مِنْ عُنُقِهَا، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَبِيهِ يَقُودُهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِي إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تَمْشِي إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" أَسْلِمْ"، فَأَسْلَمَ، قَالَتْ: وَدَخَلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ" ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ وَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ، فَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ وَالإِسْلامَ طَوْقَ أُخْتِي، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ احْتَسِبِي طَوْقَكِ، فَوَاللَّهِ إِنَّ الأَمَانَةَ الْيَوْمَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلٌ.
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذی طویٰ کے مقام پر ٹھہرے تو سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی سے کہا، جو ان کی اولاد میں سب سے چھوٹی تھی: ”اے میری بیٹی! مجھے جبل ابوقبیس پر چڑھا دو۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس وقت ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی، وہ خاتون بیان کرتی ہیں کہ میں نے اس پہاڑ پر سے جھانک کر دیکھا تو انہوں نے دریافت کیا: ”اے میری بیٹی! تم کیا دیکھ رہی ہو؟“ اس لڑکی نے جواب دیا: ”مجھے بہت سے لوگوں کا مجمع نظر آ رہا ہے۔“ سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ گھڑسوار ہوں گے۔“ اس خاتون نے کہا: ”مجھے ایک شخص نظر آ رہا ہے، جو ان کے آگے آ رہا ہے اور جا رہا ہے۔“ سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میری بیٹی! یہ ان کا نگران ہے جو گھوڑوں کو حکم دے رہا ہے۔“ پھر اس لڑکی نے بتایا: ”اللہ کی قسم! اب وہ سیاہی منتشر ہونے لگی ہے۔“ تو سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! اب یہ گھوڑے روانہ ہو جائیں گے، تو مجھے جلدی میرے گھر لے جاؤ۔“ وہ خاتون انہیں ساتھ لے کر نیچے اتریں، ان کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی گھڑسواروں سے ان کا سامنا ہو گیا، اس لڑکی کی گردن میں چاندی کا بنا ہوا ہار تھا، ایک شخص اس لڑکی کے سامنے آیا، اس نے اس لڑکی کی گردن سے ہار اتار لیا۔ وہ لڑکی بیان کرتی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ کے اندر) داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر آئے، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے والد کو ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے ان بزرگوار کو اپنے گھر میں ہی کیوں نہیں رہنے دیا تاکہ میں خود ان کے پاس آ جاتا؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ چل کر آپ کی طرف آئیں، بجائے اس کے کہ آپ چل کر ان کی طرف تشریف لے جائیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو سامنے بٹھا دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آپ اسلام قبول کر لیں۔“ تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ لڑکی بیان کرتی ہے کہ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کا سر ثغامہ (نامی سفید پھول کی طرح سفید) تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے بالوں کی رنگت تبدیل کر دو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑا اور بولے: ”میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ میری بہن کا ہار کس کے پاس ہے؟“ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میری بہن! تم اپنے ہار کے حوالے سے ثواب کی امید رکھو، اللہ کی قسم! آج لوگوں میں امانت (واپس کرنے کا جذبہ) کم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7208]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7208، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4388، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18351، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27598» «رقم طبعة با وزير 7164»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (496).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7208 in Urdu
عباد بن عبد الله القرشي ← أسماء بنت أبي بكر القرشية