🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
480. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر وصف الأنبياء وأممهم في القيامة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر انبیاء اور ان کی امتوں کی قیامت کے دن کیفیت کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7346
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: تَحَدَّثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَنَازِلِنَا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ الأَنْبِيَاءُ وَأُمَمُهُمْ وَأَتْبَاعُهَا مِنْ أُمَمِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ، وَمَعَهُ الثَّلاثَةُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ، وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ إِلا الْوَاحِدُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِهِ، حَتَّى مَرَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبُونِي، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، مَنْ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: أَخُوكَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ، وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قُلْتُ: يَا رَبِّ، فَأَيْنَ أُمَّتِي؟ قَالَ: انْظُرْ عَنْ يَمِينِكِ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُ مَكَّةَ، قَدِ اسْوَدَّ بِوجُوهِ الرِّجَالِ، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، مَنْ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: هَؤُلاءِ أُمَّتُكَ، أَرَضِيتَ؟ فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، قَدْ رَضِيتُ، قَالَ: انْظُرْ عَنْ يَسَارِكِ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا الأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوجُوهِ الرِّجَالِ، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، مَنْ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: هَؤُلاءِ أُمَّتُكَ، أَرَضِيتَ؟ فَقُلْتُ: رَبِّ رَضِيتُ، قِيلَ: فَإِنَّ مَعَ هَؤُلاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا بِلا حِسَابٍ"، قَالَ: فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَحَدُ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" فَإِنَّكَ مِنْهُمْ"، قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے، یہاں تک کہ ہم نے گفتگو ختم کی اور ہم اپنے گھروں کی طرف واپس لوٹ آئے، اگلے دن صبح ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ رات میرے سامنے انبیاء کرام ان کی امتوں اور ان کی امت سے تعلق رکھنے والے ان کے پیروکاروں کو پیش کیا گیا، تو کوئی نبی گزرا تو اس کے ساتھ اس کی امت کے تین آدمی تھے۔ کوئی نبی گزرا تو اس کے ساتھ اس کی امت کے کچھ لوگ تھے۔ کوئی نبی گزرا تو اس کے ساتھ اس کی امت کا صرف ایک آدمی تھا۔ کوئی نبی گزرا اس کے ساتھ اس کی امت کا کوئی بھی فرد نہیں تھا، یہاں تک کہ سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک بڑے گروہ کے درمیان گزرے جب میں نے انہیں دیکھا تو وہ مجھے پسند آئے، میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! یہ کون ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ان کے پیروکار لوگ ہیں۔ میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میری امت کہاں ہے؟ پروردگار نے فرمایا: اپنی دائیں طرف دیکھو۔ میں نے دیکھا، تو وہاں مکہ کا ایک پہاڑ لوگوں کے چہروں سے سیاہ ہو چکا تھا۔ میں نے عرض کی: میرے پروردگار یہ کون لوگ ہیں؟ پروردگار نے فرمایا: تمہاری امت ہے، تو کیا تم راضی ہو؟ میں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں۔ پروردگار نے فرمایا: اپنے بائیں طرف دیکھو۔ میں نے اس طرف دیکھا، تو افق کو لوگوں کے چہروں نے بھر دیا تھا۔ میں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! یہ کون لوگ ہیں؟ پروردگار نے فرمایا: یہ تمہاری امت ہے، کیا تم راضی ہو۔ میں نے عرض کی: میرے پروردگار میں راضی ہوں۔ تو یہ کہا: گیا: ان لوگوں کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ بھی ہیں، جو کسی حساب کے بغیر (جنت میں) داخل ہوں گے۔
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے تھا وہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں سے ایک ہو۔ ایک اور صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7346]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7302»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - وهو مكرر المتقدم (6397). تنبيه!! رقم (6397) = (6431) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد
Newعمران بن حصين الأزدي ← عبد الله بن مسعود
صحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله
Newمعاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
صدوق حسن الحديث
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← معاذ بن هشام الدستوائي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة