صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
560. باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الإخبار عن وصف حالة آخر من يدخل الجنة ممن أخرج من النار بعد تعذيب الله جل وعلا إياهم بذنوبهم-
جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ جنت میں آخری شخص کی حالت کی کیفیت جو اپنے گناہوں کی سزا کے بعد جہنم سے نکالا گیا
حدیث نمبر: 7429
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟"، قَالُوا: لا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟"، قَالُوا: لا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ، فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، هَذَا مَقَامُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَنَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، قَالَ: فَيَأْتِيهِمْ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، وَيُضْرَبُ جِسْرٌ عَلَى جَهَنَّمَ"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُهُ، وَدَعْوَةُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَبِهِ كَلالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ تَدْرُونَ شَوْكَ السَّعْدَانِ؟"، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلا اللَّهُ، فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمُ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ، ثُمَّ يَنْجُو، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ، مَنْ أَرَادَ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ، فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلامَةِ آثَارِ السُّجُودِ، قَالَ: وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنِ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ، قَالَ: فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدِ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءٌ، يُقَالُ لَهُ: مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ"، قَالَ:" وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَلا يَزَالُ يَدْعُو، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لا وَعِزَّتِكَ، لا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ: يَا رَبِّ، قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلا: أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ! فَلا يَزَالُ يَدْعُو، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلا: فَلَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لا وَعِزَّتِكَ لا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَيُعْطِي اللَّهَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ أَنْ لا يَسْأَلَهُ غَيْرَهُ، فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَلَمَّا قَرَّبَهُ مِنْهَا انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلا: أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ! فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ، قَالَ: فَلا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ جَلَّ وَعَلا، فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ، أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا دَخَلَ قِيلَ لَهُ: تَمَنَّ كَذَا، وَتَمَنَّ كَذَا، فَيَتَمَنَّى حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الأَمَانِيُّ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلا: هُوَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ"، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: حَفِظْتُ:" هُوَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بادل نہ ہوں، تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بادل نہ ہوں، تو کیا تمہیں چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے، تو لوگوں نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسی طرح قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کرو گے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور یہ فرمائے گا، جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے چلا جائے، جو لوگ سورج کی عبادت کرتے تھے وہ سورج کے پیچھے چلے جائیں گے جو چاند کی عبادت کرتے تھے وہ چاند کے پیچھے چلے جائیں گے، جو بتوں کی عبادت کرتے تھے وہ بتوں کے پیچھے چلے جائیں گے اور پھر یہ امت باقی رہ جائے گی، جس میں اس کے منافقین ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس سے مختلف صورت میں آئے گا جس سے وہ واقف ہوں گے وہ فرمائے گا میں تمہارا پروردگار ہوں، تو وہ یہ کہیں گے ہم تم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ہم یہیں رہیں گے جب تک ہمارا پروردگار ہمارے پاس نہیں آتا۔ جب ہمارا پروردگار ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان کا پروردگار ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس سے وہ واقف ہوں گے اور یہ فرمائے گا میں تمہارا پروردگار ہوں، تو وہ کہیں گے: تو ہمارا پروردگار ہے پھر جہنم پر پل لگایا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سب سے پہلے میں اسے عبور کروں گا۔ اس دن تمام رسول یہی دعا کر رہے ہوں گے اے اللہ سلامتی عطا کرنا اے اللہ سلامتی عطا کرنا اور اس پل پر کچھ آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے جو سعدان نامی پودے کے کانٹوں کی طرح ہوں گے کیا تم جانتے ہو سعدان کے کانٹے کیسے ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سعد ان کے کانٹوں کی مانند ہو گے۔ البتہ ان کے حجم کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے اور وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب سے اچک لیں گے، تو کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گا، اور کوئی (جہنم کے اندر) گر جائے گی اور پھر نجات پائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو جائے گا، اور اس بات کا ارادہ کرے گا جہنم سے ان لوگوں کو نکالے جو اس بات کی گواہی دیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو یہ حکم دے گا کہ وہ ان لوگوں کو نکال لیں، تو فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات کی علامت کے ذریعے پہچان لیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے یہ چیز حرام قرار دی ہے کہ وہ ابن آدم کے سجدوں کے نشان کو کھا لے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ لوگ انہیں نکالیں گے جبکہ وہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ ان پر پانی بہایا جائے گا، جسے آب حیات کہا: جاتا ہے، تو وہ یوں اگ جائیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے راستے میں دانہ اگتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان میں سے ایک شخص باقی رہ جائے گا، جو اپنے چہرے کے بل جہنم میں آئے گا: اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! اس کی بدبو نے مجھے تنگ کیا ہوا ہے اور اس کی گرمی مجھے جلا رہی ہے۔ میرا چہرہ جہنم کی طرف سے پھیر دے وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں نے تمہیں یہ چیز عطا کر دی۔ پھر تم نے مجھ سے کوئی اور چیز نہیں مانگی۔ وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے پھیر دے گا۔ اس کے بعد وہ شخص عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے یہ نہیں کہا: تھا تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ اے ابن آدم تمہارے لیے بربادی ہے تم کتنے وعدہ خلاف ہو۔ اس کے بعد وہ شخص مسلسل دعا کرتا رہے گا۔ پروردگار فرمائے گا اگر میں نے تمہیں یہ چیز عطا کر دی، تو پھر اس کے علاوہ تم مجھ سے کچھ نہیں مانگنا۔ وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پختہ عہد کرے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ اور نہیں مانگے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا تو جنت اس کے سامنے آئے گی پھر وہ اس میں موجود (نعمتوں کو) دیکھے گا، اور جتنا اللہ کو منظور ہو گا اتنی دیر خاموش رہے گا پھر عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ پروردگار فرمائے گا کیا تم نے یہ نہیں کہا: تھا کہ تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہیں مانگو گے۔ اے ابن آدم تمہاری بربادی ہے تم کتنے وعدہ خلاف ہو۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اپنی مخلوق کا سب سے بدبخت شخص نہ بنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار ہنس دے گا۔ جب وہ اس پر ہنس پڑے گا تو وہ اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے گا۔ جب وہ جنت میں داخل ہو گا، تو اس سے کہا: جائے گا: اتنی آرزو کرو، اتنی آرزو کرو، وہ آرزو کرے گا یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی۔ پروردگار فرمائے گا تمہیں یہ سب کچھ ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں یہ ملتا ہے اور اس کی مانند دس گنا ملتا ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ الفاظ یاد ہیں، تمہیں یہ ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔
یہ وہ شخص ہے جو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہو گا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7429]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ لوگ انہیں نکالیں گے جبکہ وہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ ان پر پانی بہایا جائے گا، جسے آب حیات کہا: جاتا ہے، تو وہ یوں اگ جائیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے راستے میں دانہ اگتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان میں سے ایک شخص باقی رہ جائے گا، جو اپنے چہرے کے بل جہنم میں آئے گا: اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! اس کی بدبو نے مجھے تنگ کیا ہوا ہے اور اس کی گرمی مجھے جلا رہی ہے۔ میرا چہرہ جہنم کی طرف سے پھیر دے وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں نے تمہیں یہ چیز عطا کر دی۔ پھر تم نے مجھ سے کوئی اور چیز نہیں مانگی۔ وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے پھیر دے گا۔ اس کے بعد وہ شخص عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے یہ نہیں کہا: تھا تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ اے ابن آدم تمہارے لیے بربادی ہے تم کتنے وعدہ خلاف ہو۔ اس کے بعد وہ شخص مسلسل دعا کرتا رہے گا۔ پروردگار فرمائے گا اگر میں نے تمہیں یہ چیز عطا کر دی، تو پھر اس کے علاوہ تم مجھ سے کچھ نہیں مانگنا۔ وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پختہ عہد کرے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ اور نہیں مانگے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا تو جنت اس کے سامنے آئے گی پھر وہ اس میں موجود (نعمتوں کو) دیکھے گا، اور جتنا اللہ کو منظور ہو گا اتنی دیر خاموش رہے گا پھر عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ پروردگار فرمائے گا کیا تم نے یہ نہیں کہا: تھا کہ تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہیں مانگو گے۔ اے ابن آدم تمہاری بربادی ہے تم کتنے وعدہ خلاف ہو۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اپنی مخلوق کا سب سے بدبخت شخص نہ بنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار ہنس دے گا۔ جب وہ اس پر ہنس پڑے گا تو وہ اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے گا۔ جب وہ جنت میں داخل ہو گا، تو اس سے کہا: جائے گا: اتنی آرزو کرو، اتنی آرزو کرو، وہ آرزو کرے گا یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی۔ پروردگار فرمائے گا تمہیں یہ سب کچھ ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں یہ ملتا ہے اور اس کی مانند دس گنا ملتا ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ الفاظ یاد ہیں، تمہیں یہ ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔
یہ وہ شخص ہے جو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہو گا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7429]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7386»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (178): ق، مضى برواية أخرى (4623). تنبيه!! رقم (4623) = (4642) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو هريرة الدوسي