علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
328. باب الأدعية - ذكر الخبر الدال على أن هذه الألفاظ من هذا النوع أطلقت بألفاظ التمثيل والتشبيه على حسب ما يتعارفه الناس فيما بينهم
دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس قسم کے الفاظ تمثیل اور تشبیہ کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں جیسا کہ لوگ آپس میں متعارف ہیں
حدیث نمبر: 944
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي. وَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا اسْتَسْقَاكَ فَلَمْ تَسْقِهِ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجِدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي. يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمَنِي؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ، أَمَا لَوْ أَنَّكَ أَطْعَمْتَهُ لَوَجِدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دناللہ تعالیٰ بندے سے یہ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے میں بیمار ہوا تھا لیکن تو نے میری عیادت نہیں کی، تو بندہ عرض کرے گا اے میرے پروردگار میں کیسے تیری عیادت کر سکتا ہوں، تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تواللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا کہ کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا، تو نے اس کی عیادت نہیں کی تمہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ اگر تم اس کی عیادت کر لیتے، تو اس کا اجر میرے پاس پا لیتے۔ پھراللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تجھ سے پینے کے لئے پانی مانگا تھا، تو نے مجھے پینے کے لئے پانی نہیں دیا، تو بندہ عرض کرے گا اے میرے پروردگار میں تجھے کیسے پینے کے لئے کچھ دے سکتا ہوں، تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ تواللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تمہیں علم نہیں ہے، میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا، تو تم نے اسے پانی نہیں دیا تھا کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ اگر تم اسے پانی پلا دیتے، تو اس کا اجر و ثواب میرے پاس پا لیتے۔ اے آدم کے بیٹے میں نے تم سے کھانے کے لئے مانگا تھا، تو تم نے مجھے کھانے کے لئے نہیں دیا تھا۔ بندہ عرض کرے گا اے میرے پروردگار میں تجھے کیسے کھلا سکتا ہوں جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تواللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا تھا، تو تم نے اسے کھانے کے لئے نہیں دیا تھا۔ اگر تم اسے کھانے کے لئے دے دیتے، تو اس کا اجر و ثواب میرے پاس پا لیتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 944]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 940»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م، تقدم (269).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وقد تقدم برقم (269).
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 944 in Urdu
نفيع بن رافع المدني ← أبو هريرة الدوسي